خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 189
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۹ خطبہ جمعہ ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۲ء ہیں کہ جنہیں ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ان کی ماہانہ مالی ذمہ داری ادا ہونی چاہیے۔اگر وہ کسی ایک مہینہ میں سستی دکھائیں گے تو دوسرے مہینے ان پر بڑا بوجھ پڑ جائے گا۔اگر آپ نے ان کو آٹھ نو مہینے ست رہنے دیا تو گویا دسویں، گیارہویں اور بارہویں ماہ میں سارے سال کے چندے ادا کرنے اور مالی قربانیاں پیش کرنے کا ان پر بڑا بوجھ پڑ گیا۔یورپ وغیرہ میں اکثر جگہ ہفتہ وار تنخواہ ملتی ہے لہذا وہاں ہفتہ وار وصولی ہونی چاہیے۔مثلاً ایک شخص کو انگلستان میں آٹھ پاؤنڈ ہفتہ وار ملتے ہیں اگر آپ اس سے ہفتہ وار سولہواں حصہ یعنی دس شلنگ نہیں لیتے ( سال کے حساب سے سولہواں حصہ کچھ کم بنے گا ) دوسرے ہفتے بھی نہیں لیتے ، پھر تیسرے ہفتے بھی نہیں لیتے اور چوتھے ہفتے چار ہفتوں کا اکٹھا لینا چاہتے ہیں تو اس صورت میں اس پر بڑا بوجھ ہوگا۔مزدور ہیں جو روزانہ کمانے والے ہیں اگر چہ اس معاملہ میں زیادہ سوچنے ،فکروتد بر کرنے اور زیادہ مشورے کرنے کی ضرورت ہے لیکن کسی وقت ہمیں اس طرف آنا پڑے گا اور اس کے بارہ میں کوئی پروگرام بنانا ہوگا۔ایک مزدور جو صبح سے شام تک محنت کر کے کما رہا ہے۔اگر اس کی کمائی پانچ روپے روزانہ ہے تو پانچ آنے اس کو چندہ عام دے دینا چاہیے۔( آنے اگر چہ مروجہ سکوں میں ختم ہو چکے ہیں لیکن میں اس مثال میں آنے ہی لوں گا تا کہ آسانی سے سمجھ آجائے ) پانچ روپے میں سے پانچ آنے دینا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں۔لیکن مہینے کے آخر میں روزانہ کمانے والے کے لئے ڈیڑھ سو آنے دینا عملاً ناممکن ہے ، سوائے اس کے کہ وہ بہت قربانی کرنے والا ہواور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر یہ رقم ادا کر دے اور اس صورت میں آپ ( اور آپ سے میری مراد اس تسلسل میں نظام جماعت ہے ) اُس تکلیف کے ذمہ وارہوں گے۔رواز نہ ادا ئیگی اُس کے لئے کوئی بوجھ نہیں ہے کیونکہ پانچ روپے وہ کماتا ہے اور پانچ آنے اُس نے چندہ دینا ہے۔اگر چہ جماعت میں اس وقت روزانہ وصولی کا یہ نظام نہیں ہے لیکن اب ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت جماعت میں وسعت پیدا کر رہی ہے اور انہی سلسلوں میں ابتداء میں غرباء ہی شامل ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری اکثریت مزدوروں