خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 188
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۸ خطبه جمعه ۲۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ ء سامنے آنی چاہیے کہ ہم نے کونسی غلطیاں کیں اور کیا کامیابیاں حاصل کیں۔جہاں انفرادی زندگی محاسبہ نفس کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی وہاں اجتماعی زندگی میں بھی محاسبہ کے بغیر ترقی کی راہیں نہیں کھلا کرتیں۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ جو کچھ اس نے کیا ہے وہ درست ہے اور کامل ہے اور اس کا صحیح نتیجہ نکلنا چاہیے، تو اس کی غلطیاں دور نہیں ہونگی اور اگر وہ یہ خیال کرے کہ جتنا کام مجھے کرنا چاہیے تھا میں نے کر لیا ہے تو اس کو زیادہ زور کے ساتھ کام کرنے کی توفیق نہیں ملے گی۔بہر حال ایک جائزہ لینا چاہیے اور اس بات کا محاسبہ ہونا چاہیے کہ ہم نے کہاں ، کس رنگ میں اور کیوں غلطی کی اور آئندہ اس سے بچنے اور اصلاح کرنے کا پروگرام بنا چاہیے۔ہمارا جو سال ختم ہوتا ہے اس میں جو کوششیں کی جاتی ہیں اس دوران خدا تعالیٰ کی راہ میں جو قربانیاں دی جاتی ہیں اور نفس اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے جو جد و جہد اور مجاہدہ کیا جاتا ہے اس کا ایک حصہ ہماری مالی قربانیاں ہیں۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جب مالی قربانیاں ایک نظام کے ماتحت دی جائیں تو احباب جماعت یہ توقع رکھتے ہیں کہ انتظام چست ہوگا اور سارا سال باہمی مشوروں ، یاد دہانیوں اور نصیحت کے ذریعے ذمہ داریاں ادا کروائی جائیں گی۔ایک نقطہ نگاہ سے نظام ذمہ داری ادا کرتا ہے اور ایک دوسرے نقطۂ نگاہ سے ذمہ داری ادا کرواتا ہے۔پس احباب جماعت یہ سمجھتے ہیں کہ ذمہ داریاں ادا کرائی جائیں گی اور کسی ایک کو بھی سست ہونے دیا جائے گا نہ غافل۔اس طرح سارے مل کر اس انتظام میں آگے سے آگے اور تیز سے تیز تر ہوتے ہوئے بڑھتے چلے جائیں گے لیکن اس کے برعکس بعض جگہ تو بہت بھیا نک حد تک اور بعض جگہ ایک حد تک سستی یہ ہوتی ہے کہ وہ مالی بوجھ جو احباب جماعت پر سارے سال میں پھیل کر پڑنا چاہیے۔وہ پھیلاؤ کی بجائے بعض دفعہ آخری چھ ماہ یا آخری دو ماہ پر پڑتا ہے۔پس احباب جماعت کے لئے حالات کے لحاظ سے پروگرام بننا چاہیے مثلاً زمیندار ہیں ان کے لئے چھ ماہ کا پروگرام ہو کیونکہ انہوں نے فصلوں کے موقع پر اپنی مالی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔جب ان کی فصلیں تیار ہوں اور مالی قربانی کے قابل ہوں تو اس وقت ان کو یاد دہانی کرائی جانی چاہیے تا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں وقت پر ادا کر دیں اور بعد میں ان کو بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔جماعت کے بعض دوست ایسے