خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 187
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۷ خطبه جمعه ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۲ء انفرادی زندگی کی طرح اجتماعی زندگی میں بھی محاسبہ نفس کے بغیر کامیابی کی راہیں نہیں کھل سکتیں فرمائی:۔خطبه جمعه فرموده ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اِس حصہ آیت کی تلاوت وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة - (البقرة : ٤٦) پھر فرمایا:۔ایک سال ختم ہونے کو ہے اور ایک نیا سال شروع ہونے والا ہے۔یہ زمانی اور مکانی فاصلے اور منزلیں ، کوشش اور جدو جہد کی انتہا نہیں ہوتے بلکہ ایک کوشش جب ختم ہوتی ہے تو ایک نئی اور ایک بڑی کوشش شروع ہو جاتی ہے اور اس تسلسل کی ہر منزل ٹھہرنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک نئی کوشش کے انتظام۔ایک نئے عزم کا مقام ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک دور تو ایک سال کا بنایا ہے جس کا میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں اور اُس نے بعض دوسرے دور بھی بنائے ہیں جن میں وقت کم یا زیادہ ہوتا ہے۔فاصلے اور زمانے کی اس تعیین میں کئی حکمتیں ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ ہم محاسبہ کر سکیں کہ ( سال کا ) دور جو گذرا اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔اس امر کا محاسبہ ہونا چاہیے اور یہ بات کھل کر ہمارے