خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 171 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 171

خطبات ناصر جلد چہارم 121 خطبه جمعه ۱۴ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ء اس سے تمہارا غصہ تسلی پاتا ہے یہ تو درحقیقت تمہاری موت کا باعث بھی ہے۔اس طرح تمہارا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت میں خرچ کرنا تمہاری حیات، تمہاری ترقی تمہارے ارتقاء اور تمہاری فلاح اور خوش حالی کا باعث نہیں بنے گا۔یہ تمہاری موت کا باعث بنے گا۔پھر جہاں تک منافقین کا تعلق ہے ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بجائے دوسروں پر اعتراض کر دیتے ہیں۔چنانچہ اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراض کر دیا کہ پیسے ٹھیک جگہ خرچ نہیں ہور ہے اور یہ ہو رہا ہے اور وہ ہو رہا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے منافقین کی یہ ساری باتیں ہمارے لئے بیان کر دی ہیں۔اس کے برعکس ایک کمزور ایمان والا آدمی بہکتا ہے پھر اس کو سہارا ملتا ہے تو وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔پھر بہک جاتا ہے اور پھر سہارا ملنے پر آگے بڑھتا ہے اور اس طرح اندرونی اور اخلاقی اور روحانی طور پر اس کے اندر ایک کشمکش جاری رہتی ہے پھر جب اس کی کماحقہ تربیت ہو جاتی ہے تو وہ اپنے نفس امارہ کو کچل دیتا ہے وہ اس سانپ کا سرکاٹ دیتا ہے اور اپنے نفس کے گھوڑے پر سوار ہو کر ایک اچھے سوار کی طرح اس کی لگا میں اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے پھر گھوڑا اپنی مرضی کے مطابق اسے جدھر چاہے نہیں لے جا تا بلکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق گھوڑے کو جدھر چاہے لے جاتا ہے اور اس کی مرضی خدا کی مرضی ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور اسی میں وہ لذت اور سرور پاتا ہے اور اسی میں وہ ایک نئی خوشحالی اور ابدی زندگی کے سامان دیکھتا ہے اور پھر جن کے پانے کے لئے وہ اسی طریق پر کوشاں رہتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے موجودہ مالی سال ختم ہو رہا ہے جہاں جماعت کی اکثریت اور بہت بھاری اکثریت مالی قربانی دینے کے لئے تیار بھی ہے اور اکثر نے عملاً قربانی دے دی ہے وہاں کہیں کہیں ہمیں بظاہر غفلت بھی نظر آتی ہے بہت سی جماعتوں نے مالی قربانی دی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اکثر جگہ پر عہدیداروں نے اس سلسلہ میں بھی اپنے وقت کی اور اپنے آرام کی قربانی دی۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اُنہوں نے اپنا وقت خرچ کیا اور نظام کی وجہ سے ہر احمدی دوست کے دل میں جو ایک امید پائی جاتی ہے کہ ایک چوکس اور بیدار عہدیدار اس کے پاس آئے گا اور وقت پر اس سے