خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 170
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء کیفیت کے لحاظ سے کتنے وسیع اور کتنے شاندار ہیں انسان کی عقل اللہ تعالیٰ کے خزانوں کی کیفیت اور کمیت کو گر اسپ نہیں کر سکتی۔انسان انہیں اپنے شعور میں بھی نہیں لاسکتا۔کیونکہ یہ چیزیں انسان کے فکروتدبر اور اس کی عقل و دانش سے بالا ہیں۔بس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانی عقل بڑھتے بڑھتے جہاں ختم ہوگئی اس سے بھی ورے اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور وہاں تک انسانی عقل کی پہنچ ہی نہیں ہے۔بہر حال جن لوگوں نے اپنا مال بے دریغ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا وہ نقصان میں نہیں رہے مگر جنہوں نے نہیں دیا اور انہیں دینا چاہیے تھا ، وہ نقصان میں رہے۔اُخروی زندگی کے لحاظ سے تو یقیناً نقصان میں رہے لیکن اُن میں سے اکثر اس دُنیا میں بھی نقصان میں رہے مثلاً کفار مکہ اور سردارانِ قریش امیر لوگ تھے عرب کے، اُس وقت کے اقتصادی نظام میں ان لوگوں کا بڑا اونچا مقام تھا۔ایک ایک آدمی ہزار ہا اونٹوں کا مالک ہوا کرتا تھا۔مگر اس ظاہری مال و دولت نے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا کیونکہ اُنہوں نے بخل کیا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے اُنہوں نے اپنے اموال اسلام کی مخالفت میں خرچ کئے۔نتیجہ اُن کے اموال کہاں باقی رہے؟ اُن کا سب کچھ ختم ہو گیا۔پھر اُن کو اُس وقت مال و دولت ملی جب اُنہوں نے اس ابدی صداقت کو پالیا کہ سب اموال اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور بہترین اور حقیقی اور سچا خرچ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔تو پھر ان کو خدا تعالیٰ نے دوبارہ مال و دولت عطا فر ما یا مگر اس صورت میں عکرمہ وہ عکرمہ نہیں تھے۔اور نہ خالد بن ولید وہ خالد بن ولید تھے جب دوسری دفعہ ان کو اموال عطا ہوئے تو وہ بالکل بدلی ہوئے شخصیتیں تھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک نئی زندگی عطا فرمائی تھی۔ان کے ذہن بدل گئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نئی حیات بخشی تھی۔ان کی پہلی زندگی پر ایک موت وارد ہو چکی تھی۔پھر اس نئی زندگی میں اُنہوں نے نئے خزانے پائے اور اس نئی حیات میں اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے ایک نئی لذت اور نیا سرور حاصل کیا۔پہلے تو غصے کی ایک عارضی تسلی تھی یعنی غصے کو تسلی ہو گئی کہ ہم نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اپنا پیسہ خرچ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا موتوا بغيظكم (ال عمران : ۱۲۰) تم سمجھتے ہو کہ