خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 169 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 169

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶۹ خطبه جمعه ۱۴ /۱ پریل ۹۷۲ میں داخل ہونے والوں میں سے اگر کسی نے ایک چوٹی ماہانہ چندہ دیا تو وہ بڑی قربانی کرنے والا سمجھا گیا اور وہی شخص جس نے اپنے حالات کے لحاظ سے ایک چوٹی چندہ دیا تھا اور بڑا مخلص سمجھا گیا تھا اُس نے بعد میں ایک وقت میں کہا کہ میری ساری جائیداد لے لو۔غرض اس وقت کی تربیت کے لحاظ سے وہی چوٹی انتہائی قربانی تھی اور خدا تعالیٰ نے اس قربانی سے پیار کیا اور اس قربانی کے نتیجہ میں قربانی دینے والے آدمی سے بھی پیار کیا اور پھر یہی آدمی تربیت حاصل کرتے کرتے جب ایک ارفع مقام پر پہنچا تو اس نے اپنی ساری جائیداد خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دی جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب اپنے ارفع مقام پر پہنچے تو ایک موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کی تحریک فرمائی تو آپ اپنا سب کچھ لے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا ابوبکر گھر میں کیا چھوڑا ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا۔گھر میں خدا اور اس کے رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں اس کے علاوہ مجھے کسی اور چیز کی ضرورت ہی کیا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اور مال عطا فرمایا تو اُنہوں نے وہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نسبت جولوگ آپ سے کم درجے پر پہنچے ہوئے تھے اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریک پر کہ ہم اپنا نصف مال یعنی پچاس فیصدی خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیتے ہیں ( وصیت میں ہم ۱۰/ ا سے ۱/۳ تک یعنی دس فیصدی سے لے کر تینتیس فیصدی تک دیتے ہیں ) لیکن صحابہ کرام کی زندگیوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت خدا اور اس کے رسول سے محبت اپنے جوش میں آتی ہے اس وقت سارا مال قربان کروا دیتی ہے یا اُس وقت نصف مال قربان کروا دیتی ہے لیکن وہ گھر جس سے دُنیا کی ساری دولت اور دُنیا کے سارے اموال نکال کر خدا کے رسول کے قدموں میں ڈال دیئے گئے تھے وہ گھر دُنیا کی دولت سے بھی خالی نہیں رہے۔جس بٹوہ میں ایک دھیلا باقی نہیں چھوڑا گیا تھا وہ بھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نے پھر اسے بھر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہ ختم ہونے والے خزانوں کا مالک ہے ہم اس کے نہ ختم ہونے والے بھر پور خزانوں کی مقدار اور قسم کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ہمیں تو یہ پتہ ہی نہیں کہ اس کے خزانے اپنی کمیت اور