خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 168

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶۸ خطبه جمعه ۱۴ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ء یہی ہوتی ہے کہ الہی سلسلہ کمزور ہو جائے۔ایک منافق اور کمزور ایمان والے آدمی کے درمیان یہی فرق ہے۔ایک منافق کا الہی سلسلہ کو نقصان پہنچانے کی نیت اور ارادہ ہوتا ہے اور اس کی کوشش اور جدو جہد بھی نقصان پہنچانے کیلئے ہوتی ہے مگر ایک کمزور ایمان والا آدمی قربانی دینے میں کمزوری تو دکھاتا ہے لیکن اس کی نیت خراب نہیں ہوتی۔کمزوری ہوتی ہے نیت کی خرابی نہیں ہوتی۔اس کے اندر ایمان کی کمزوری ہے عمل کی کمزوری ہے لیکن نیت کا فتور نہیں اور نہ اس کی جد و جہد ہی ایسی ہوتی ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ وہ سلسلہ کو عملی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس لئے جو آدمی کمزور ایمان والا ہے اس کے لئے ہمارے دل میں انتہائی ہمدردی پیدا ہونی چاہیے اور ہے میرے دل میں بھی ہے اور ہر سمجھدار احمدی کے دل میں بھی ہے۔ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے شخص کو پیار سے اور عقلی دلائل دے کر سمجھا ئیں۔ہم آئے دن اللہ تعالیٰ کے پیار کے جو نشان دیکھتے رہتے ہیں وہ اس کے سامنے رکھ کر اس کی اصلاح کریں۔چنانچہ ہم ایسے لوگوں کو آہستہ آہستہ تربیت کے نتیجہ میں بے صبری دکھائے بغیر ایک اعلیٰ مقام پر لانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر باری باری اعلیٰ مقام پر آ جاتے ہیں۔پھر پیچھے ایک اور Queue بنا ہوتا ہے۔ایک اور قطار لگی ہوتی ہے یعنی اور کمز ور آ جاتے نئے احمدی ہوتے ہیں یا نئے جوان ہوتے ہیں۔جن کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔کمزوری ایمان اور اس کے نتیجہ میں عمل کی کمزوری در اصل تربیت کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے تاہم ایسے کمز ور ایمان والے لوگوں کی طرف سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ مقابلہ پر آکر مخالفت کریں گے یا سلسلہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ایسے لوگوں کی تربیت ہونی چاہیے اور انہیں پیار کے ساتھ اور عقلی دلائل دے کر سمجھانا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے نشان ان کے سامنے رکھ کر انہیں بتانا چاہیے کہ یہ دیکھو اللہ تعالیٰ کس طرح جماعت کے کاموں میں برکت ڈال رہا ہے اور بنی نوع انسان کے دل میں اسلام کو قبول کرنے کی ایک عالمگیر رو پیدا کر رہا ہے۔اگر آپ یہ باتیں ان کے سامنے رکھیں تو انشاء اللہ اُن کے ایمان بھی پختہ ہو جائیں گے۔یاد رکھیں آج ہمیں جن دوستوں کے ایمان پختہ نظر آتے ہیں جب وہ پہلی دفعہ احمدیت میں داخل ہوئے تھے تو اُن کی یہ حالت نہیں تھی۔چنانچہ پہلی دفعہ سلسلہ