خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 162 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 162

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶۲ خطبه جمعه ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء جن کے متعلق کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ وہ مٹی کو ہاتھ لگا ئیں تو سونا بن جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں برکت رکھی ہوتی ہے اور کچھ تاجر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ سونے کو ہاتھ لگا ئیں تو وہ مٹی بن جاتی ہے۔پھر ایک وہ تاجر بھی ہے جو ایک وقت میں بڑی برکتوں والا ہوتا ہے۔اس کے کاموں میں اور اس کی کوششوں اور اس کی تجارتوں میں ہمیں بڑی برکت نظر آتی ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ جو مالک ہے اس کے بارے میں اس کی نگاہ بدل جاتی ہے تو وہی برکتوں والا تا جرجس چیز کو ہاتھ لگاتا ہے اس میں برکت کی بجائے نحوست ، نفع کی بجائے نقصان اور خوشحالی کی بجائے بدحالی نظر آتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جس زاویہ نگاہ سے بھی دیکھو گے تمہیں یہی نظر آئے گا کہ زمین و آسمان اور ان میں جو چیزیں ہیں ان سب کی ملکیت اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے وہی ان کا حقیقی مالک ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی ان کا حقیقی مالک نہیں ہے اور یہ ایک ابدی صداقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے جلوے روز مرہ کبھی یہاں اور کبھی وہاں دکھاتا رہتا ہے۔یہ جلوے کبھی ایک شکل میں اور کبھی دوسری شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی ملکیت کے ثبوت میں ہمیں اس کی صفات کے جلوے نظر آتے ہیں اور بڑی کثرت سے نظر آتے ہیں۔پس اس ابدی حقیقت کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے اور اُن لوگوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی عطا یعنی وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ہے، اس مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔بخل کے معنے عربی زبان میں مال کے اس جگہ نہ خرچ کرنے کے ہوتے ہیں جس جگہ وہ مال خرچ کرنا چاہیے۔اگر ہم حقائق عالم پر نگاہ ڈالیں (اور اس سلسلہ میں ایک ابدی حقیقت اور ازلی صداقت کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ کیا گیا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ) تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اموال اور اس کی دی ہوئی طاقتوں اور اسی کی عطا کردہ