خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 161
خطبات ناصر جلد چہارم F ۱۶۱ خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے استعمال کا صحیح طریق یہی ہے کہ انہیں اسی کی راہ میں خرچ کیا جائے خطبه جمعه فرموده ۱۴ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:۔b وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا أَللهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيْطَوَقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلِلَّهِ مِيْرَاثُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - (ال عمران : ۱۸۱) اور پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس زاویہ سے بھی دیکھو تمہیں یہی نظر آئے گا کہ زمین و آسمان کی ملکیت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتی ہے۔زمین و آسمان اور ان میں جو چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور چونکہ وہ سب کا خالق ہے اس لئے وہ سب کا مالک بھی ہے۔پھر اس نقطۂ نگاہ سے دیکھنے سے بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی عطا کی وجہ سے کسی آدمی کی ملکیت نظر آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کی وجہ سے انسان کی ملکیت ٹھہرتی ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ چیز اس کی ملکیت میں رہتی ہے۔چنانچہ روز مرہ کی زندگی میں ہم عموماً یہ دیکھتے ہیں کہ ( مثلاً) کچھ تاجر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ