خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 157
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۷ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء معنے کی وضاحت کے لئے آگے یہ نتیجہ آ گیا ہے کہ كما اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ ابْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ - فرما یا وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وہ خدا کا پیارا اور محبوب جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا نتیجہ اور امیدوں کا مرکز اور جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش گوئیوں پیش خبریوں اور بشارتوں کے مطابق مبعوث ہونا تھا۔وہ آ گیا اور جن مقاصد کے لئے اسے مبعوث کیا جانا تھا اُن مقاصد کے پورا ہونے کا زمانہ آ گیا۔اس لئے فَوَلُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَها تم ان مقاصد کو نظر انداز نہ کر دینا ورنہ تم پر الزام بھی آئے گا۔تم شیطان کے حربوں سے نقصان بھی اٹھاؤ گے۔اتمام نعمت کے راستے میں روکیں بھی پیدا ہوں گی اور اس طرح تم آخری فلاح حاصل نہیں کر سکو گے لیکن اگر تم نے اپنی پوری توجہ خلوص نیت اور پختہ عزم کے ساتھ ان مقاصد کو یا د رکھا اور ان کے حصول کے لئے کوشش کی جن کا تعلق خانہ کعبہ کی تعمیر کے ساتھ ہے تو پھر یا درکھو! د نیا تم پر الزام نہیں دھر سکے گی کیونکہ تم سے خدا تعالیٰ کا پیار اور اس کی محبت کا سلوک دنیا کے سارے الزاموں کو مٹادے گا۔پس تم اس پیار کو حاصل کرو۔دنیا اگر اِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُم کی رو سے ظلم کی راہ اختیار دوو کرے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو دیکھتے ہوئے بھی تم پر الزام لگائے تو تم اس کی پرواہ نہ کرو کیونکہ بصارت رکھنے والی دنیا ، آنکھیں رکھنے والی دنیا اور عقل رکھنے والی دنیا اعتراض نہیں کر سکے گی۔دنیا یہ اعتراض نہیں کر سکے گی کہ تم ان مقاصد کو بھول گئے ہو یا یہ کہ اس زمانے میں خانہ کعبہ تمہارے قبضے میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا مسلمانو! خانہ کعبہ یا بیت اللہ تمہیں ملے گا اور پھر قیامت تک تمہارے پاس رہے گا لیکن جن ذمہ داریوں کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس گھر سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تحفہ اپنے پیارے بندے، اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا۔ان ذمہ داریوں کو ہمیشہ اپنی نگاہ میں رکھنا۔ان کو کبھی نظر انداز نہ کر دینا۔پھر سوائے ظالموں کے کسی اور کا تم پر اعتراض نہیں رہے گا۔کوئی حجت نہیں ہو گی۔تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے دیکھنے لگو گے۔پھر اندھیرے تمہاری نگاہ کے سامنے نہیں آئیں گے کیونکہ جب تم اللہ تعالیٰ کا خوف