خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 156
خطبات ناصر جلد چہارم ܪܬܙ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء میں پڑتی رہتی ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو اس سے ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دل میں یہ خوف ہے کہ کہیں خدا تعالیٰ ہم سے ناراض نہ ہو جائے ہمارے دل میں یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم اپنے گناہوں اور غفلتوں کی وجہ سے خود کو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں سے محروم نہ کر لیں جنہیں وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ہمیں عطا کرنا چاہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا یہی خوف ہے جو ہمیں ہر وقت لاحق رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی اس عظمت اور جلال کا خوف رہتا ہے جس کے احساس سے انسان خود کو اور ہر دوسری مخلوق کو لاشئی محض سمجھتا ہے۔فرمایا تم نے اس عظمت اور جلال کو خانہ کعبہ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں دیکھا ہے اس لئے فَلَا تَخْشُوهُمْ وَاخْشَون کسی اور سے نہ ڈرنا۔مجھ سے ڈرتے رہنا پھر فرما یا قرآن کریم میں ہم نے خانہ کعبہ کے جملہ مقاصد بیان کر دیئے ہیں۔اس لئے ہر عقلمند آدمی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ سارا منصوبہ بنی نوع انسان کی بھلائی اور رفعتوں کے لئے ہے اور یہ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ وَلِأُتِمَّ نِعْمَتَى عَلَيْكُمْ تا کہ میں اپنی کامل نعمتیں تم پر بارش کی طرح نازل کروں اور اس اتمام نعمت کے نتیجہ میں وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ تم ایسی فلاح اور کامیابی حاصل کرو کہ جس سے بہتر اور جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی ہو ہی نہیں سکتی۔جن آیات میں خانہ کعبہ کے مقاصد بیان ہوئے ہیں ان کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی دعا کی گئی ہے جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں اس دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔فرمایا:۔" كما اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمُ ابْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُم الكتب وَالْحِكْمَةَ 66 تا انسان کو یہ یاد دہانی کرائی جائے کہ فوتُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کے اصل معنے کیا ہیں۔قرآن کریم کی ہر آیت کے ایک سے زائد بطون اور بہت سے معانی ہوتے ہیں لیکن مضامین اور معانی کا جو سلسلہ میں اس وقت بیان کر رہا ہوں اس میں فَوَلُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کے