خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 153
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۳ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء کی جاتی ہے۔وہ قائم رہتی ہے اور باقی تو ہر عمل ضائع ہو جاتا ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرماتا ہے:۔كُل شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص: ۸۹) امام راغب نے اس آیت کے یہ معنی کئے ہیں کہ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَعْمَالِ الْعِبَادِ هَالِكُ وَبُطِلُّ إِلَّا مَا يُرِيدَ بِهِ اللهُ یعنی انسانوں کے اعمال میں سے ہر عمل ہلاک ہونے والا اور لایعنی اور باطل ہے سوائے اس عمل کے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پس اس اعتبار سے فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کے یہ معنے ہوں گے کہ تم اپنی نیتوں کو ایسا بناؤ کہ وہ ہمیشہ تعمیر بیت اللہ کے مقاصد کی طرف متوجہ اور مائل رہیں۔تمہیں چاہیے کہ تعمیر بیت اللہ کے سلسلہ میں قرآن کریم میں جو مقاصد بیان ہوئے ہیں تم اُن سے نظر نہ ہٹاؤ۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُم حُجةٌ عملاً ظاہری طور پر بھی خانہ کعبہ کی حکومت تمہیں مل جائے گی۔اس لئے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں ابراہیمی دعاؤں کا پھل اور ثمرہ ہوں۔اگر میری بعثت کے مقاصد میں بنی نوع انسان کی دینی اور دنیوی ترقیات اور رفعتوں کے حصول خانہ کعبہ کے مقاصد میں بیان ہوئے ہیں اور جن کے آخر میں یہ دعا کروائی تھی کہ ایسا نبی ہو جو تز کیہ کرنے والا ، حکمت سکھانے والا ، آیات بیان کرنے والا ہو وغیرہ اس سچے دعوی کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خانہ کعبہ پر کوئی غیر مسلم یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کے علاوہ اور کوئی قابض رہے۔پس ایک تو اس میں دوبارہ اس کو حاصل کرنے کی سعی کا بھی ذکر ہے کیونکہ اس کے بغیر تو وہ وعدے پورے نہیں ہوتے اور الزام آتا ہے یعنی اگر ایسا نہ ہوا تو غیر لوگ یہ الزام لگا ئیں گے کہ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں مبعوث ہوئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ وہ مسجد حرام ، وہ بیت اللہ جو حضرت ابراہیم کے ذریعہ از سرنو تعمیر کروایا گیا تھا اور اس کے جو مقاصد بیان ہوئے تھے ان کے ساتھ تمہارا عملاً کوئی تعلق نہیں وہ تو غیر کے ہاتھ میں ہے۔فرمایا یہ تو تمہیں