خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 151
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۱ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء آپ کے ماتحت ہزاروں جرنیل پیدا ہوئے ہر زمانے میں ہزاروں پیدا ہوئے لیکن جس طرح آپ کے زمانہ میں اسلام اس وقت کی ساری دنیا پر غالب ہوا۔اسی طرح آپ کی بعثت ثانیہ ( جسے ہم اسلام کی نشاۃ ثانیہ بھی کہتے ہیں) کے زمانے میں بھی اسلام نے ساری دنیا پر غالب ہونا ہے اور غالب ہونا ہے آپ کے محبوب ترین روحانی بیٹے اور آپ کے جرنیلوں میں سے عظیم ترین جرنیل کے ذریعہ جس کے سپاہی میں اور تم ہو۔پس یہ وہ تین مسجدیں ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں کہلاتی ہیں۔باقی تمام مساجد تو ان کے ظل ہیں۔یہ مسجد بھی ظل ہے۔اصل میں تو وہی تین مسجدیں ہیں اور اصل میں تو انہیں کے ساتھ حقیقی طور پر اور بلا واسطہ ان برکات اور فیوض کا تعلق ہے۔جن کی بنیادی اینٹ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔آپ کی ذات مجسم نور اور انتہائی بلند اور ا رفع ہے۔دراصل جہاں تک روحانیت کا تعلق ہے۔ہمیں ہر طرف (حضرت) محمد محمد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہی نظر آتے ہیں۔آپ کے علاوہ تو کوئی نظر نہیں آتا۔کوئی آپ سے پہلے آیا تو اس نے بھی آپ ہی کے طفیل روحانی فیوض اپنے رب سے حاصل کئے اور کوئی بعد میں آیا تو اس نے بھی روحانی فیوض آپ ہی کے ذریعہ حاصل کئے۔اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو یہ حکم دیا کہ برکتوں کا سرچشمہ اور فیوض کا منبع تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔میں نے آپ کے ذریعہ بنی نوع انسان کے لئے تقرب کی راہیں کھول دی ہیں۔قرب کی ان راہوں میں ایک بڑی راہ الصلوۃ ، یعنی نماز ہے جسے اس کی شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہوتا ہے اور نماز کی ادائیگی کا تعلق مساجد سے ہے اس لئے فرما یا تم مسجدوں میں اکٹھے ہوکر اجتماعی طور پر اپنے رب کے حضور جھکوتا کہ وہ برکات تم پر نازل ہوں۔جن کا اجتماعی رنگ میں امت محمدیہ کو وعدہ دیا گیا ہے اور جن کی بشارتیں ملی ہیں۔چنانچہ یہ حکم ان آیات میں ہے جو ابھی میں نے پڑھی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ