خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 143

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۳ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء ایسا نہ کریں تو پھر اُن کے لئے شر کے سامان پیدا ہوں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تمہیں اس طرح چھوڑ نا تو نہیں تم یہ سمجھتے ہو کہ جس طرح دُنیا بھول کر تمہیں ثابت قدم سمجھتی ہے کامل اطاعت گزار سمجھتی ہے۔قول معروف پر کار بند سمجھتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے دین کا مددگار مجھتی ہے۔اُسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکہ دے لو گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تو تمہیں سمجھتے ہیں ہم دُنیا کو بھی بتا دیں گے کہ تم اپنے دعوی میں جھوٹے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَنَبْلُونکھ ہم تمہاری ضرور آزمائش کریں گے اور اس سلسلہ میں یہ ابتلاء اور یہ امتحان اللہ تعالیٰ اپنے علم میں زیادتی کے لئے تو نہیں پیدا کیا کرتا یالا یا کرتا۔یہ دوسروں کو دکھانے کے لئے لاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے علم سے تو کوئی چیز پوشیدہ رہ ہی نہیں سکتی۔کسی لحظہ بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔یہ ابتلاء اور امتحان کیا خدا تعالیٰ خود جاننے کے لئے کرتا ہے (نعوذ باللہ ) کہ کیسی ہے اطاعت کیسا ہے اخلاص؟ کیسا ہے ایثار اور کیسی ہے فدائیت ! خدا تعالیٰ کو تو ان کا پہلے سے علم ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا سمجھ کر تم نے اپنے نفسوں کو دھوکا دیا کہ اگر ہم انسانوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں تو خدا تعالیٰ کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مجھے تو تم دھوکہ دے ہی نہیں سکتے۔لیکن میں اپنے بندوں کو بھی تمہارے دھوکے میں پھنسنے نہیں دوں گا۔تمہارے لئے ابتلاء پیدا کروں گا۔تمہارے لئے امتحان لاؤں گا پھر دُنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ مجاہد اور صابر کون ہے اور وہ جو پارسائی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا اس کے اندر کتنا گند بھرا ہوا ہے ایسے شخص کا ظاہر تو تھا لیکن باطن نہیں تھا۔اس کا چھلکا تو تھا لیکن مغز نہیں تھا اس کا جسم تو تھا مگر روح نہیں تھی۔غرض ایسا شخص انسان کو بھی دھوکہ نہیں دے سکے گا کیونکہ خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ وہ نگا ہو کر بے مغز ہونے کی صورت میں اور ایک ایسے جسم کی شکل میں جس کے اندر روح نہیں ہے۔دُنیا میں وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے سامنے آجائے گا اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَوْ صَدَقُوا الله تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنے عہد کو سچ کر دکھاتے اور اس بات کے لئے کہ تم اپنے عہد کو سچ کر دکھاؤ تمہارے لئے ابتلاء اور امتحان کے سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں پھر فرمایا۔وَنَبْلُوا اخْبارَكُمْ ہم تمہارے اندرونے کی بھی آزمائش لیں گے یعنی ظاہر بین نگاہ صرف ظاہر کی کمزوریاں نہیں دیکھے گی بلکہ ایک ظاہر بین اور صاحب بصیرت و بصارت