خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 111
خطبات ناصر جلد چہارم 111 خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء 66 پر دے چاک کر کے رکھ دو۔ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔یہ غیر مبائعین نے اُس وقت کے فتنے کے موقع پر جو لوگ اُس وقت فتنہ پیدا کر رہے تھے اُن کو مخاطب کر کے کہا تھا اور آج ساری جماعت کو خصوصاً اہلِ ربوہ کو مخاطب کر کے آج کے فتنہ گروں نے یہ کہا ہے اور جسے ذرا غور سے سنتے رہنا۔میں بھی جہاں ضرورت پڑی زور دوں گا۔در اصل نفاق چونکہ نقاب پوش ہوتا ہے یہ علی الاعلان سامنے نہیں آتا اس لئے ان کی جو لیڈر ہے وہ بھی نقاب پوش "رابعہ انقلابی یعنی عورت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔اُس نے لکھا ہے :۔لہذا اس انقلاب کی تکمیل کے لئے آپ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔۔۔یقیناً آج تم اپنے آہنی عزم کے بل بوتے پر تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے والے ہو ( جس طرح بقول محمد حسین چیمہ ۱۹۵۶ ء میں کرنے والے تھے )۔دوستو ! قوت کا اصل سرچشمہ تم ہو جماعت کا وجودصرف تم سے قائم ہے اور جب تک تمہیں اپنی قوت کا احساس نہیں ہو گا تمہارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔لہذار بوہ میں عوامی قانون اور عوامی انصاف لانے کے لئے اپنی جد و جہد کو تیز کر دو۔“ اب ربوہ جو دُنیا میں اشاعت قرآن اور حفاظت قرآن اور تفسیر قرآن کا مرکز ہے۔اس ربوہ میں عوامی قانون یعنی اسلامی قانون نہیں بلکہ عوامی قانون اور قرآنی عدل وانصاف نہیں بلکہ عوامی انصاف لانے کے لئے اپنی جد و جہد کو تیز کر دو۔پھر اس خبیث گروہ کے دل میں ربوہ کی جو قدرومنزلت ہے اور جس فقرہ کو پڑھ کر مجھے آگ لگی اور اب بھی لگی ہوئی ہے اور جسے مردوزن غور سے سنیں وہ یہ ہے:۔کیار بوہ معاشی دوڑ کے نتیجہ میں غیر فطری فعلوں اور مردوزن کے ناجائز تعلقات کی آماجگاہ نہیں بن رہا۔“ اب ان کے نزدیک ربوہ غیر فطری فعلوں اور مردوزن کے ناجائز تعلقات کی آماجگاہ ہے اور اسی ربوہ سے جو اُن کی خبیثانہ نگاہوں میں غیر فطری فعلوں اور مردوزن کے ناجائز تعلقات کی آماجگاہ ہے اس سے کہتے ہیں کہ اُٹھو اور انقلاب لاؤ۔اے منافقو اور جاہلو ! جس کو تم نے خدا کی