خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 103

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء ا لیکن میرے اس ایک دل میں تو آپ سب کی ساری تکالیف اور ساری پریشانیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔پس اس کھتے پر تو آپ نے بہت ساری زنجیریں ڈال دی ہیں۔آپ تو ایک ایک فرد تھے مگر یہاں سارے افراد کی تکالیف اکٹھی ہو جاتی ہیں۔میں بلا مبالغہ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں آپ کے لئے دُکھ اُٹھاتا ہوں اور تکالیف سہتا ہوں۔غرض یہ زنجیریں ہیں جنہوں نے مجھے اور آپ کو جکڑا ہوا ہے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو غلامی کی زنجیروں میں نہیں جکڑ ا وہ تو غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے آیا تھا۔جس کے متعلق خدا کا مسیح اور مہدی علیہ الصلوۃ والسلام یہ کہے کہ وہ غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے آئے گا۔اس کے متعلق یہ منافق کہتے ہیں کہ اس نے ساری جماعت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔کیا آپ اور میں خدا تعالیٰ کی بات کو مانیں گے یا ان منافقوں کی بکواس پر کان دھر لیں گے؟ ششم۔پھر وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں (اور یہ ان کی عجیب منطق ہے ) کہ خلیفہ کی تنخواہ کا سکیل بند کر دیا جائے حالانکہ خلیفہ کی تنخواہ کا تو سکیل ہی کوئی نہیں۔جھوٹ بول دیا یعنی یہ کہنا یا خط میں لکھنا کہ خلیفہ کی تنخواہ کا کوئی سکیل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً سو روپے تنخواہ ہے تو ہر سال دس روپے ترقی ہوگی۔پھر جب سکیل ختم ہو گا تو ایفی شینسی بار ملے گا کیونکہ سکیل میں یہ بھی آجاتا ہے تو پھر ناظر دیوان فیصلہ کرے گا کہ خلیفہ وقت کی اہلیت برقرار ہے۔اس کی اہلیت ایسی ہے کہ اس کو اگلا سکیل دیا جائے یا نہ دیا جائے۔یہ تخیل ہی خلافت کے ساتھ نہیں جاتا اور یہ تصور ہی موجود نہیں مگر انہوں نے اعلان کر دیا کہ خلافت کا سکیل بند کر دو، دوسرے یہ کہا کہ شوریٰ حالات کے مطابق خلیفہ کا الاؤنس مقرر کرے۔اس میں بھی خباثت ہے یعنی جو بھی الاؤنس ہے وہ شوریٰ ہی نے مقرر کیا ہوا ہے مگر یہ کہتے ہیں کہ نہیں شوریٰ نے مقرر نہیں کیا ہوا۔خلیفہ نے آپ ہی مقرر کر دیا ہے کہ میں اتنے پیسے لیا کروں گا اور عیش کروں گا حالانکہ شوریٰ نے خود ہی یہ مقرر کیا تھا اور جس اجلاس میں اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا اس میں میں موجود بھی نہیں تھا اور جس کے لینے میں میری مرضی بھی نہیں تھی۔اس کے متعلق میں آگے چل کر بات کروں گا۔پہلے میں اُن کے جو خیالات ہیں اُن کو وضاحت کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دینا چاہتا ہوں۔