خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 99
خطبات ناصر جلد چہارم ۹۹ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء لیتا ہے۔ویسے یہ ٹھیک کہ اللہ اللہ ہے اور انسان انسان ہی ہے۔کبھی وہ ہماری دُعا رد بھی کر دیتا ہے اور نہیں مانتا کیونکہ وہ مالک ہے۔ہمارا اُس پر کوئی حق نہیں۔ہم پر اس کے سارے حقوق واجب ہیں۔اللہ تعالیٰ کبھی ہماری دُعاؤں کو مہینوں کے بعد سنتا ہے کبھی وہ سالوں کے بعد سنتا ہے لیکن کبھی وہ اپنی شان اس رنگ میں بھی دکھاتا ہے کہ ابھی دعا کے الفاظ منہ سے نہیں نکلے ہوتے کہ وہ بات پوری ہو جاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ دُعا ئنتا ہے اور بات مان لیتا ہے اور کام کر دیتا ہے۔چنانچہ بے شمار دفعہ دُعاؤں کو اس رنگ میں بھی قبول ہوتے دیکھا ہے کہ ادھر دل میں خیال آیا اور ادھر وہ بات پوری ہو گئی۔پھر بعض دفعہ دعا کے نتیجہ میں اُس نے ناممکن باتوں کو ممکن بنا دیا۔دُعا کروانے والے شور مچارہے تھے کہ دُعا کرواتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دعا کرو مگر بظاہر ( مثلاً وکلاء سے مشورہ کیا ہے بچنے کی کوئی صورت نہیں مگر خدا تعالیٰ سے دعا کی تو اُس نے ایسی دعائیں بھی قبول فرما لیں۔دراصل خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں اپنی شان اور عظمت کے اظہار کیلئے قبول فرماتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعا ئیں اسلئے بھی قبول فرماتا ہے کہ وہ اس سے دُنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ میرے بندے ہیں۔تم ان سے دشمنی مول نہ لو کیونکہ تم اُنکے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اُن کو میں نے اپنے ایک کام کے لئے بچنا ہے۔جب تک خدا اُن سے وہ کام لینا چاہتا ہے لیتا ہے پھر مار دیتا ہے اور ایک دوسرا آدمی کھڑا کر دیتا ہے۔زندگی اور موت تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ایک دم کا بھی اعتبار نہیں ہے لیکن جب تک وہ آخری دم نہیں آجا تا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی نصرت کے نظارے اس ایک وجود میں جس کو وہ خلیفہ بناتا ہے دُنیا دیکھتی رہتی ہے۔یہ موٹے موٹے نظارے میں بتا دیتا ہوں تاکہ بچوں کو بھی سمجھ آجائے۔میری خلافت ہے د پر تھوڑ اسا زمانہ گزرا ہے۔ابھی پانچ چھ سال ہی ہوئے ہیں اس تھوڑے سے عرصہ میں صدر انجمن احمد یہ کے چندوں میں ۴۱ فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔اب یہ میری طاقت ہے؟ نہیں ! میں نے تو کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا کہ یہ میری طاقت سے ہوا ہے یا یہ میری کسی مہارت یا میرے کسی ہنر کا نتیجہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب مجھے خلیفہ بنایا تو اُس نے فرمایا میں تیرا مددگا رہوں۔