خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 98

خطبات ناصر جلد چہارم ۹۸ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء اور جہاں تک میرا تعلق ہے، ایک اور تکلیف کے وقت میں نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی اور میں اُس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اس مسجد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے بڑے پیار سے فرمایا:۔يدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ (ص: ۲۷) پس میں خلیفہ اس لئے نہیں ہوں کہ تم میں سے کسی گروہ نے مجھے منتخب کیا ہے۔میں خلیفہ اس لئے ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا اور خلیفہ بنایا اور پیار کے ان الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔غرض خلیفہ خدا ہی بنایا کرتا ہے۔انسانوں کا یہ کام ہی نہیں اور جن کو خدا خلیفہ بناتا ہے وہ انسانوں کے کام پر تھوکتے بھی نہیں اور نہ ان کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔خلافت حقہ اصولی طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے پہچانی جاتی ہے۔اس کی آگے تفصیل ہے جو بہت لمبی ہے جس میں اس وقت میں نہیں جا سکتا۔مراد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ خودا اپنی حکمت کا ملہ سے جس کا ہمیں پتہ نہیں ہوتا ، خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت تھی لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ اُس نے مجھے خلیفہ بنایا اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ اُس نے اپنی حکمت کا ملہ سے جس کو اس وقت خلیفہ بنایا ہے، اس سے وہ پیار بھی کرتا ہے اور اس کی تائید بھی کرتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی نصرت بتا رہی ہوتی ہے کہ یہ خلافت حقہ ہے۔مگر میں اپنے متعلق سوچتا ہوں تو اپنے آپ کو ایک ناکارہ مزدور پاتا ہوں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعلق یہی کہا تھا تو میں تو اتنا بھی نہیں۔غرض خدا کا ایک ناکارہ مزدور ہوں۔ویسے بھی انسان ہے کیا چیز جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اُس کے شامل حال نہ ہو۔انبیاء علیہم السلام جس وقت کہتے ہیں یا اُن کے خلفاء جس وقت یہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں تو خود کو بالکل ناکارہ مزدور پاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر تو انسان کچھ بھی نہیں۔مگر جو خدا تعالیٰ سے ملاپ کے بعد ملتا ہے وہ انسان کا اپنا نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا ہوتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ میری دعاؤں کو سنتا ہے اور اتنی کثرت سے سنتا ہے کہ آپ کو اگر میں ساری باتیں بتا دوں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ممکن ہے آپ کے خیالات بھی پریشان ہو جائیں گے۔بعض دفعہ ابھی دعا کی نہیں ہوتی ، دل میں خیال ہی آتا۔اللہ تعالیٰ اُسے بھی قبول فرما