خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 97 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 97

خطبات ناصر جلد چہارم ۹۷ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء مجدد بنایا ہے۔کیا یہ بتانے کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے جو انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی نہیں آئے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مانگے گئے لیکن انکار کر دیا گیا کہ اس غرض کے لئے نہیں آئیں گے۔کیا کسی زمانہ میں یا کسی وقت میں انسانوں کا کوئی مجموعہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے کہ جس کے متعلق وہ کہیں گے کہ خدا نے مجدد بنایا ہے وہ مجد د بن جائے گا۔قرآن کریم میں تو ہمیں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی۔پھر کون کہے گا ؟ وہ خود کہے گا جب کہے گا۔بہتوں نے تو کہا ہی نہیں کہ ہم مجدد ہیں یعنی جن بزرگوں کو ہم مجد دسمجھتے ہیں اُن میں سے اکثر نے یہ کہا ہی نہیں کہ ہم مجدد ہیں۔جنہوں نے کہا کہ ہم مجدد ہیں اُنہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ خدا نے انہیں بتایا ہے کہ میں نے تمہیں مجدد بنایا ہے۔پس اگر خلیفہ کہے کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں نے تجھے خلیفہ بنایا ہے تو پھر ؟ کیا تم فیصلہ کرو گے کہ اس نے صحیح کہا ہے یا غلط۔فیصلے کرنے کے اصول ہیں یعنی کوئی شخص جھوٹ بھی بول سکتا ہے مگر اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اصول مقر رفر مائے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جب یہ فرمایا تھا کہ نہ انجمن مجھے خلیفہ بنا سکتی ہے اور نہ کوئی انسان مجھے خلیفہ بنا سکتا ہے میں تو انجمنوں کے خلیفہ بنانے پر تھوکتا بھی نہیں ہوں۔تو کیا اُنہوں نے اپنے کسی تکبر اور غرور کے نتیجہ میں کہا تھا یا خدا نے انہیں فرمایا تھا کہ میں نے تمہیں خلیفہ بنایا ہے۔یقیناً خدا ہی نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو یہ فرمایا تھا کہ میں نے تجھے خلیفہ بنایا ہے۔پھر خلافت ثانیہ آئی۔کیا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے یہ کہہ دیا تھا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے درآنحالیکہ خدا نے آپ کو یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں نے تجھے خلیفہ بنایا ہے وہ اتنا محتاط انسان کہ جس نے اُمتِ احمدیہ یعنی اُمت محمدیہ کے علماء اور سمجھ دار لوگوں کے اصرار کے باوجود مصلح موعود ہونے کا دعوی اس وقت تک نہیں کیا کہ جب تک خدا نے اُسے یہ نہیں بتادیا کہ میں نے تجھے مصلح موعود بنایا ہے اس کے متعلق تم یہ اعتراض کرتے ہو کہ اُس نے اپنی طرف سے خلیفہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔