خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 93
خطبات ناصر جلد چہارم ۹۳ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء میرے پاس آئے اور اُنہوں نے مجھ سے کوئی ایسی بات کی کہ مجھے یہ خیال آیا کہ ان کے دماغ میں ہے کہ آج جماعت شاید خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے باہر کسی کو خلیفہ منتخب کرے۔تو یہ نہ ہو کہ خاندان کی وجہ سے کوئی ذراسی بھی بدمزگی پیدا ہو جائے۔اس لئے محتاط رہنا چاہیے۔میں نے سمجھا ٹھیک ہے انہیں یہ نیک نیتی سے خیال آیا ہے۔خیر جب انہوں نے مجھ سے یہ بات کی تو میں نے ایک رؤیا کی بناء پر اُن سے کہا کہ میں تمہیں تسلی دلاتا ہوں اور یہ ذمہ داری لیتا ہوں کہ ہمارے خاندان کے کسی فرد کی وجہ سے بدمزگی پیدا نہیں ہوگی۔جماعت جس کو چاہے خلیفہ منتخب کرے۔ہم اس پر امَنَّا وَ صَدَّقنا کہیں گے اور نیک نیتی سے اس کی اطاعت کریں گے۔کہتے ہیں کہ باہر کے ٹور کئے اور اپنا پروپیگنڈہ کیا اور انتخاب کے وقت بڑی بد انتظامی ہوئی اور زبردستی خلیفہ بن بیٹھا۔یہ باتیں میں بڑی دیر سے ٹن رہا ہوں۔سوائے اس کے کہ میں لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الكنبین کہوں اور کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے، ہم اس عقیدہ پر قائم ہیں اور ہم سے مراد امت محمدیہ ہے جس میں پہلے بھی خلافت رہی۔اب بھی خلافت ہے اور رہے گی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اسی کے رحم سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور منافق کا یہ عقیدہ ہے یا کم از کم وہ اس عقیدہ کا اظہار یہی کرتا ہے کہ چونکہ انسانوں کے ہاتھ سے یہ فعل ہوتا ہے اس لئے خلیفہ خدا نہیں بناتا۔اس کی منشاء نہیں ہوتی چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ کئی بے وقوف لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کو کہا کہ تم جا کر اپنا انتخاب کر لو اور میں یہی سمجھ لوں گا کہ میں نے خلیفہ بنایا ہے۔یہ بات تو خدا تعالیٰ کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ پر بھی یہی اعتراض کیا گیا تھا کہ آپ کو خدا نے خلیفہ نہیں بنایا۔اس سلسلہ میں آپ کے بہت سارے حوالے ہیں۔جن میں سے اس وقت میں چند ایک آپ کو سنا دیتا ہوں۔آپ نے ۱۹۱۲ ء میں فرمایا تھا:۔یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہیے کہ