خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 71
خطبات ناصر جلد چہارم اے خطبه جمعه ۳/ مارچ ۱۹۷۲ء جو خود کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے اُسے قوی بھی ہونا چاہیے اور امین بھی خطبه جمعه فرموده ۳ مارچ ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انبیاء علیہم السلام قوی بھی ہوتے ہیں اور امین بھی اور پھر انبیاء میں سب سے زیادہ قوی اور سب سے زیادہ امین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔اسی لئے ہمیں اسوۂ نبوی کی پیروی کی طرف توجہ دلائی گئی اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سختی سے تلقین کی گئی ہے۔پس ہر وہ شخص جو خود کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے، اُسے قوی بھی ہونا چاہیے اور امین بھی۔قوی کے معنے صرف یہی نہیں ہوتے کہ کوئی آدمی زیادہ بوجھ اُٹھا لے۔قومی کے معنی دراصل یہ ہوتے ہیں کہ آدمی ہر اُس ذمہ داری کو حسن و خوبی سے ادا کر سکے جس کے اُٹھانے کی اُسے تلقین کی گئی اور جس کے نباہنے کی اُسے تعلیم دی گئی ہے۔غرض صرف Weight Lifting ویٹ لفٹنگ) یعنی مادی بوجھ کو اُٹھانے ہی کے معنے میں قوی کا لفظ استعمال نہیں ہوتا مثلاً قوت برداشت ہے۔جس آدمی میں قوت برداشت ہوتی ہے وہ بھی قوی ہوتا ہے۔پھر عزم ہے یہ بھی دراصل اسی قوت کی ایک جھلک ہوتی ہے۔