خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 52
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء یہ سمجھتا تھا کہ آج ( بزعم خویش ) عیسائیت اور اسلام کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ہم نے مسلمانوں کو مٹا دیا ہے۔یہ باہر سے مدد دینے آئے تھے اپنے مسلمان بھائیوں کو۔ہم نے ان کو بھی شکست دے دی ہے۔چنا نچہ عصر تک یہی حال رہا پھر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ایک نئی شان میں آئے کیونکہ كُلّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن :٣٠) اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہر جلوہ نئی شان رکھتا ہے چنانچہ عصر کے وقت عیسائی فوج بھاگ نکلی حالانکہ اس سے پہلے وہ سارا دن مسلمانوں کو مارتے اور دباتے رہے تھے لیکن مسلمانوں کی تکلیف جب اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا اور کامل قدرتوں والا ہے وہ مسلمانوں کی مددکو آیا۔اُس نے ان کا امتحان لے لیا تھا اس لئے فرمایا تم کامیاب ہو گئے۔اب لو میرا انعام چنانچہ رومی بھاگے اور یوسف بن تاشفین اور اس کے آدمی ( باوجود اس کے کہ کچھ تو شہید ہو گئے تھے اور کچھ ویسے بھی تعداد میں کم تھے مگر چونکہ وہ ایمان پر قائم تھے اس لئے ) ساری رات دشمن کو مارتے مارتے ان کا پیچھا کیا اور قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر ایک دریا تھا اُن کا خیال تھا کہ ہم وہاں تک اُن کا پیچھا کریں گے چنانچہ دشمن کا ساٹھ ستر ہزار فوج میں سے کل پانچ سو عیسائی دریا پار کر سکے۔شاید کچھ دائیں بائیں سے بھی نکلے ہوں گے لیکن ان کی اکثریت ماری گئی۔چنانچہ وہ دشمن جو عصر کے وقت تک اپنے خیال میں غالب تھا، وہ مغلوب ہی نہیں ہوا بلکہ ہلاک ہو گیا اس لئے کہ صبح سے لیکر عصر تک جو ظلم اُنہوں نے مسلمانوں پر کیا تھا وہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔مسلمان تو صبح کے وقت یہ کہتے ہوں گے کہ خدا کا وعدہ جلدی کیوں نہیں پورا ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: - فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ تم ان کے خلاف جلدی نہ کرو۔مطلب یہی ہے کہ تم خدا سے یہ نہ کہو کہ وہ نصرت و مدد کو جلدی آئے اور ان کا فروں کو مار دے جو ہمیں دکھ دے رہے ہیں، ایذا پہنچا رہے ہیں۔زخمی کر رہے ہیں اور بعض کو قتل کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا نَعتُ لَهُمْ عَدا یعنی تمہارے ساتھ بھی ایک وعدہ ہے کہ فلاں وقت مدد آئے گی اور اُن کفار کے ساتھ بھی وعدہ ہے کہ ایک وقت تک ان کو ڈھیل دی جائے گی۔دراصل یہ دونوں وعدے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اگر مسلمان کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اُسے عصر کے وقت اللہ تعالیٰ کی مدد ملے گی تو یہ