خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 51
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۱ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء کسی وقت یہ فیصلہ کرے کہ میں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کروں گا۔یہ تو ایک عیب ہے اور خدا تعالیٰ ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے۔اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ کہے کہ میں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ میری قدرت سے باہر ہے کیونکہ وہ تو ساری قدرتوں کا مالک ہے۔پس وہ سچے وعدوں والا بھی ہے اور کامل قدرتوں والا بھی ہے، اس لئے اس کی صفات کی اسی معرفت کے بعد یہ عہد کیا جاتا رہا ہے کہ مسلمان اپنے دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ میں تمہیں آزماؤں گا چنانچہ قرونِ اولیٰ کے بعد کی تاریخ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش کے وقت سچے مسلمان نے پیٹھ نہیں دکھائی۔یوسف بن تاشفین کا واقعہ ہے جو سپین میں رونما ہوا۔وہ افریقہ کے رہنے والے تھے۔میں نے تمثیلی رنگ میں عصر کے وقت کا ذکر کیا ہے مگر ان کے اس واقعہ میں عملاً عصر کا وقت ہی تھا جب انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی۔یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ جب سپین کے حالات خراب ہو گئے تو مسلمانوں نے یوسف بن تاشفین سے درخواست کی کہ ہماری مدد کریں چنانچہ وہ قریباً بارہ ہزار گھوڑ سوار فوج لے کر وہاں پہنچ گئے ، عیسائی بادشاہ ساٹھ ستر ہزار کی فوج لے کر حملہ آور ہوا۔بڑی زبر دست جنگ ہوئی جس میں بظاہر دشمن کا پلہ بھاری تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس موقع پر یوسف بن تاشفین نے یہ سمجھا کہ آج مجھے اپنی عمر میں شاید پہلی شکست نہ ہو جائے کیونکہ دشمن کا دباؤ بڑا شدید تھا۔عیسائی مسلمانوں کو مار رہے تھے۔انہیں قتل کر رہے تھے اور پیچھے ہٹا رہے تھے مگر اس سارے دباؤ اور ان تیزیوں کے با وجود جود شمن مسلمانوں کے خلاف دکھا رہا تھا اس پر اُنہوں نے پیٹھ نہیں دکھائی عیسائی سمجھتے تھے کہ آج وہ غالب آگئے اور سپین سے مسلمان کو گو یا مٹا دیا۔یوسف بن تاشفین کا یہ واقعہ مسلمان کی سپین میں ہلاکت سے کئی صدی پہلے کا ہے گو اس وقت بھی یہی حالات پیدا ہو گئے تھے۔جو بعد کی صدی میں زیادہ بگڑ گئے اور مسلمانوں کو ان کی غفلتوں اور کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں ایک عذاب کا اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔بہر حال یوسف بن تاشفین سمجھتے تھے کہ عمر میں پہلی شکست ہورہی ہے اور ادھر عیسائی بادشاہ