خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 614 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 614

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۱۴ خطبہ جمعہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ء ہمیں اور دے ہر قدم پر ، نمازوں کے درمیان ہمیں اور دے۔ہر جمعہ جمعہ کے درمیان ہمیں اور دے۔سال سال کے بعد ہمیں اور دے یہاں تک کہ ہم اس امتحان کی دنیا سے نکل کر اس دنیا میں داخل ہو جائیں جہاں تیری حمد کے جلوے تو ہمارے دلوں میں موجود ہوں گے لیکن وہ دار امتحان نہیں ہو گا۔امتحان کا تصور یہ ہے کہ پاس ہونے کا بھی امکان ہے اور فیل ہونے کا بھی امکان ہے لیکن دوسری زندگی میں ترقیات کے امکانات تو ہیں لیکن ناکامی کا کوئی امکان نہیں اس لئے ہم اسے دار الابتلاء یا امتحان کی دنیا نہیں کہہ سکتے وہاں بھی ترقیات ہوں گی۔بہر حال ایک سال گزرا خدا کے فضل سے اور اس کی رحمتوں سے نزول بارش کی طرح اس کی نعمتوں کے نزول کے ہم نے نظارے دیکھے۔ہمارے دل اس کی حمد سے لبریز ہیں اور ہم نہایت عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتے اور کہتے ہیں ايَّاكَ نَعْبُدُ لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ تو نے ہمارے دل میں جو آگے ہی آگے بڑھنے کی خواہش پیدا کی ہے۔اس کے لئے تو نے ہمیں یہ دعا سکھائی اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تجھ سے عاجزانہ دعا کرتے ہیں۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے ہمارے خدا! تو ہماری دعا کو قبول کر اور کسی منزل کو ہماری اس دنیوی زندگی میں ہماری آخری منزل نہ بنا دے۔ہماری آخری منزل تو موت کا دن ہے جب اس دنیا سے ہم دوسری دنیا میں داخل ہو جائیں گے۔جب پردہ نہیں رہے گا کیونکہ تیرے جلوے ظاہر ہوکر ،منور ہوکر ، روشن ہوکر اور حجابات سے مبرا ہو کر ہمارے سامنے آئیں گے۔اس وقت تک تو ہماری طاقتوں میں اضافہ کرتا چلا جا اور اپنے فضلوں میں جو ہم پر تیری طرف سے نازل ہوں اضافہ کرتا چلا جا۔ہر دن جو ہم پر چڑھے پہلے دن سے زیادہ مبارک ہو۔ہر جمعہ جو ہماری زندگیوں میں آئے اس میں ہمیں پہلے جمعہ سے زیادہ رحمتوں کے سمیٹنے کی توفیق ملے اور ہر جلسہ جو پہلے جلسہ کے بعد آئے اس میں ہم تیرے فضلوں اور تیری رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے والے ہوں۔ايَّاكَ نَسْتَعِین کی ایک بنیاد بھی قائم ہو رہی ہو کہ مزید طاقتیں ملیں گی مزید قربانیوں کی توفیق ملے گی۔اللہ تعالیٰ کے پہلے سے بھی بڑھ کر فضل نازل ہوں گے اور رحمتیں نازل ہوں گی سب کچھ اسی کی منشاء اور اسی کے حکم سے ہو سکتا ہے۔ہم عاجز بندے عاجزانہ اسی کے حضور جھکتے اور