خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 606
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰۶ خطبہ جمعہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ء عطا کرنے کے بعد ایسی تمام مادی اشیاء بھی عطا کیں جن کی ضرورت ان قوتوں کی نشوونما کے لئے تھی اور ہم نے تیری توفیق سے تیری عطا کردہ قوتوں کو انتہائی طور پر استعمال کر کے تیرے حضور اپنی پیشکش کی۔جب تک ان قوتوں سے انسان فائدہ نہ اٹھائے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں، اس وقت تک وہ حقیقی معنی میں اِيَّاكَ نَعْبُ نہیں کہہ سکتا۔جب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب قوتوں سے انتہائی فائدہ حاصل کر لے تب وہ کہہ سکتا ہے کہ تو نے اپنا بندہ اور عبد بننے کے لئے جو طاقتیں ہمیں دی تھی ہم نے ان کا صحیح اور انتہائی استعمال کر لیا اور چونکہ تو نے ہمارے اندر آگے ہی آگے بڑھنے کا جذبہ اور جوش پیدا کیا ہے۔اس لئے اس مقام پر ہمارے دل تسلی نہیں پکڑتے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم یہیں کھڑے رہیں۔اس لئے جو قو تیں تو نے ہمیں عطا کیں ان کے مطابق ہم نے اپنی طرف سے اپنی بساط کے مطابق کوشش کی ، اب آگے بڑھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہماری قوت میں اضافہ ہو، اس واسطے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیری مدد مانگتے ہیں تجھ سے استعانت چاہتے ہیں کہ تو ہمیں مزید طاقت دے تاکہ تیری راہ میں ہم آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں۔کئی فقیر آپ کو نظر آئیں گے یا بعض ہنگامی حالات میں ان کی یہ حالت آپ کے سامنے آئے گی کہ دس دس ہزار، بیس بیس ہزار ، پچاس پچاس ہزار روپیہ ان کے پاس جمع بھی ہے اور گلیوں اور بازاروں میں اپنے دوسرے بھائیوں کے سامنے مانگنے والا ہاتھ انہوں نے آگے بھی کیا ہوا ہے اس طرح کئی لوگ ایسے ہیں کہ جو ان کے پاس ہے اسے خرچ نہیں کرتے اور خدا کو کہتے ہیں کہ اور دے۔فقیر جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اسے تو معلوم نہیں کہ اس کے گھر میں رات کی روٹی ہے یا نہیں۔نہ اسے یہ علم ہے کہ اس کی تجوری یا تھیلی میں پانچ دس ہیں پچاس لاکھ روپیہ ہے۔جب نوٹ Cancel ( کینسل ) ہوئے اور کہا گیا کہ پرانے نوٹ لاؤ تو بعض ایسے فقیروں کا ذکر بھی اخباروں میں آیا (واللہ اعلم کہاں تک یہ درست ہے ) جن کے پاس لاکھوں روپیہ تھا اور پھر بھی وہ بھیک مانگ رہے تھے اور دینے والا ان کو دے رہا تھا اور اس کے بھائی کے دل میں یہ جذ بہ پیدا ہوتا تھا کہ بے چارا! اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔پیسہ اس کے پاس نہیں کہیں رات کو بھوکا نہ سو جائے اس کو دے دو لیکن جو ہاتھ خدا تعالیٰ کے سامنے پھیلا یا جاتا ہے وہ ایک