خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 592
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۲ خطبہ جمعہ ۲۲ / دسمبر ۱۹۷۲ء خوشیوں اور برکتوں کے سامان لے کر آنے شروع ہو گئے ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں بیان ہوا ہے کہ آپ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔آپ کو دیکھنے والا ہر شخص آپ کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت کے آثار مشاہدہ کیا کرتا تھا۔گو یا مسکرانا سنتِ نبوی ہے اسی واسطے میں نے پہلے بھی متعدد بار کہا ہے کہ مجھے بھی اور مجھ سے پہلو کو بھی بڑے مصائب اور پریشانیوں میں سے گزرنا پڑتا رہا ہے۔مگر ہماری مسکراہٹ کو ئی نہیں چھین سکا۔جب جماعت نسبتاً چھوٹی تھی ، اس چھوٹی سی جماعت کو بھی اور اب جب کہ جماعت نسبتا بڑی ہوگئی ہے ( دنیا کے لحاظ سے تو یہ اب بھی چھوٹی ہے ) اس نسبتاً بڑی جماعت کو بہت سی پریشانیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ہماری مخالفتیں ہوتی ہیں۔ہمیں تنگ کیا جاتا ہے اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہے۔ہمارے خلاف منصوبے باندھے جاتے ہیں۔احمدیت کے مخالفین کی یہ کوششیں اور منصوبے دراصل غلبہ اسلام کی اس مہم کے خلاف ہیں جو احمدیت کے ذریعہ جاری ہوئی ہے۔غرض لوگ جانتے بوجھتے یا نا سمجھی کی وجہ سے اس جماعت کو دکھ پہنچاتے ہیں جس پر اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ تمام دکھ اور تکلیفیں ہماری مسکراہٹوں کو ہم سے نہیں چھین سکیں۔اس لئے کہ ہم تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور آپ کے اسوۂ حسنہ میں اپنی زندگی اور زندگی کے حسن کو دیکھتے اور پاتے ہیں۔پس یہ موقعہ ایک لحاظ سے امتحان کا ہے کیونکہ جب بہت دوست جمع ہو جا ئیں تو کچھ محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔کچھ فکر زیادہ کرنی پڑتی ہے کچھ آنے والے بھائیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔روز مرہ کی زندگی کے علاوہ جماعت پر عموماً اور اہل ربوہ پر خصوصاً ایک زائد بوجھ پڑتا ہے۔پھر پیچ میں کچھ منافق بھی ہوتے ہیں جو دکھ دینے والی باتیں کرتے ہیں، وہ بھی سنی پڑتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہماری مسکراہٹوں کو چھینا نہیں جا سکتا۔اس لئے میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مسکراتے چہروں اور مخلصانہ جذبات کے ساتھ اپنے آنے والے بھائیوں کا استقبال کریں اور ان کا پورا خیال رکھیں۔جلسہ سالانہ کے یہ ایام جو دوسری بات ہمیں یاد دلاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل