خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 581

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۱ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء مسابقت نہیں کیا کرتے لیکن انسانی کمزوری ہے اس کو دیکھنا پڑتا ہے اور ہر وقت اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس قسم کی آپس میں لڑائی اور غلط مسابقت کا کام شروع نہ ہو جائے۔اب مثلاً چین ہے۔چین ہم سے دو سال چھوٹا ہے ہم ۴۷ء میں آزاد ہوئے اور وہ ۴۹ ء میں آزاد ہوا۔چین ہم سے آبادی کے لحاظ سے بڑا ہے پاکستان کی آبادی آزادی کے وقت گیارہ کروڑ کے قریب تھی اب غالباً بارہ تیرہ کروڑ ہے چین کی آبادی آزادی کے وقت ساٹھ پینسٹھ کروڑ تھی اقتصادی لحاظ سے چین ہم سے بہت پیچھے تھا۔Industry (انڈسٹری ) کے لحاظ سے چین ہم سے بہت پیچھے تھا لیکن وہاں کے جو کرتا دھرتا لوگ ہیں انہوں نے اسلام کی تعلیم کو اپنایا اور بڑی تگ و دو کی کہ مسابقت کرنی ہے اور آپس میں لڑنا نہیں۔ان کا ماٹو جو انہوں نے بنایا ہے اس سلسلے میں اس کا انگریزی ترجمہ میں نے ایک جگہ یہ پڑھا ہے "Friendship First, Competition Second" تو پہلے دوستی ہے یہ چینی دماغ کی پرواز اور اڑان نہیں ہے یہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے قرآن کریم کی یہ عظمت ہے کہ جو لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے ان کی بھی رہنمائی کرتا ہے جولوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانتے نہیں ان کو اپنے عمل سے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ واقعہ میں رَحْمَةٌ لِلعلمین ہیں گویا جنہوں نے آپ کو نہیں پہچانا ان کے لئے بھی رحمت بن گئے یہ ایک بنیادی چیز ہے کہ الفت واخوت اول باہمی مسابقت بعد میں ان کی آپس کی نسبت یہ ہے کہ ایک بنیاد ہے اور ایک فرع ہے۔ایک کی اہمیت اتنی ہے کہ اس کو کسی صورت میں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا۔ایک کی اہمیت ایسی ہے کہ اگر وہ بنیادی چیز کو ضرب لگانے والی ہے تو اس کو چھوڑنا پڑے گا۔مسابقت کو،Competition کو ہمیں چھوڑنا پڑے گا اگر وہ بنیان مرصوص کو ضرب لگا رہی ہے۔پس قرآن کریم بڑی عظمتوں والی کتاب ہے لیکن افسوس کہ جو لوگ اس کی طرف منسوب ہوتے ہیں وہ بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔جو اس پر ایمان لاتے ہیں وہ بھی اس سے فیض حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے جنہوں نے اس کو مانا ہے انہوں نے بھی اس کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا۔دیکھو ہمارے ملک میں فتنہ اور فساد کی آگ بھی بھڑک رہی ہے اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم پاکستان