خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 567 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 567

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۷ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ گذشتہ جمعہ کے روز خطبہ میں میں نے دو محلوں کے متعلق پانی کے انتظام کے سلسلہ میں بعض باتیں کیں تھیں۔میری خواہش یہ تھی کہ جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے ایسا انتظام ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو قانون بنائے ہیں ان کے لحاظ سے ہر کام خواہ وہ کتنی ہی تندہی اور مستعدی سے کیوں نہ کیا جائے کچھ وقت ضرور لیتا ہے۔اسی واسطے جو چیز انسان کے اختیار میں نہیں۔کہانی لکھنے والوں نے وہ جنوں کے اختیار میں دے دی کہ آنکھ جھپکتے ہی ایک محل تیار ہو گیا۔انسان اس طرح کبھی محل تیار نہیں کر سکتا۔وہ بچوں کا دل بہلانے کے لئے جن ہی تیار کر سکتے ہیں پس میری خواہش عملاً پوری نہیں ہو سکی اور نہ اتنی تھوڑی مدت میں ہوسکتی تھی کیونکہ ہر کام کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔سروے ہو گیا ہے ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ کس جگہ پانی بہتر مل سکتا ہے۔پانی کی ضرورت بہت ہے اس واسطے کوشش یہ ہونی چاہیے اور عملاً ایسا ممکن بھی ہے کہ سردیوں کے اختتام تک بجلی کے کنویں مختلف جگہوں پر لگ جائیں اس تاخیر کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے خیال آیا کہ صرف ان دو محلوں ہی کے متعلق نہیں بلکہ ربوہ کے جس جس محلہ میں پانی کا کنواں لگانے کی ضرورت ہے وہ محلے مجھے کل یا پرسوں تک اطلاع دیں تو ان کو بھی اس جائز ہ اور سکیم میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے کچھ اب لگ جائیں کچھ بعد میں لگ جائیں گے یا ممکن ہے سارے ہی اس وقت لگ جائیں دوسرے اس سلسہ میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں اور بڑی وضاحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو پانی کا انتظام ہورہا ہے یہ مرکز سو فیصدا اپنی ذمہ داری پر آپ کو بنا کر نہیں دے گا بلکہ آپ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں اور جس حد تک آپ کی خدا داد طاقت اور قوت ہے اس حد تک آپ کو خود چلنا پڑے گا اور اس کے بعد کے کام مرکز کے سپر د ہوں گے۔وہ آپ کے کنویں کا انتظام کرے گا۔جہاں تک کنویں کا تعلق ہے اس کے لئے کم از کم یہ ضروری ہے کہ اس کی کھدائی وغیرہ کا خرچ یا اس کی محنت آپ کو خود کرنی پڑے گی اور اگر اس سے زائد پیسے جمع کر سکیں تو وہ بھی آپ کا حصہ ہو گا لیکن اتنا آپ کو ضرور کہنا پڑے گا اور اگر آپ اس سے زائد پیسے جمع نہیں کر سکتے تو جو پمپ اور بجلی کی موٹر کا خرچ ہے اور پائپ وغیرہ کا خرچ ہے وہ مرکز مہیا کرے گا۔لیکن کنواں بور کرنے کا جو خرچ ہے وہ آپ خود برداشت کریں