خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 543
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۳ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء رہے ہو؟ تو بولا کہ جی بس کاٹ رہے ہیں۔اب دیکھو ہم نے تو ۲۰، ۲۵ سالہ کوشش کے نتیجہ میں یہاں کچھ تھوڑے بہت درخت لگائے ہیں اور اس قسم کے لوگ آرام سے آ کر بغیر اجازت بغیر کسی جائز وجہ اور بغیر جائز حق کے درخت کاٹنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں جی بکری کے لئے چارہ یا چائے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہے۔اس قسم کی ضرورت ربوہ کے درختوں سے پوری نہیں کرنی چاہیے۔پس ربوہ کے ہر مکین کا یہ فرض ہے کہ اسے جہاں بھی نظر آئے کہ کوئی شخص درخت کاٹ رہا ہے تو وہ اس کے پاس چلا جائے اور اسے درخت کاٹنے سے روک دے۔یہ تو تھی وہ ذمہ داری جوان درختوں کی حفاظت کے لئے ہے جو پہلے سے موجود ہیں جو نئے درخت لگائے جائیں گے ان کی حفاظت کی ذمہ داری اطفال الاحمدیہ پر ہے۔سوائے اس کے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس فیصد درخت مرجاتے ہیں اور بڑھتے نہیں انسانی غلطی یالا پرواہی کے نتیجہ میں ایک درخت بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔سارے چھوٹے اور بڑے بچے درختوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔مجلس صحت کو چاہیے کہ ان کی ٹولیاں بنا کر ہر ٹولی کے ذمہ لگائیں کہ مثلاً انہوں نے فلاں جگہ کے اتنے درختوں کی حفاظت کرنی ہے۔دوسرے صفائی وغیرہ کا کام ہے ورزش کے لئے میدان ٹھیک کرنے کا کام ہے۔مجلس صحت کی طرف سے مجھے دیر سے کوئی رپورٹ نہیں ملی۔شاید ہمارے چوہدری بشیر احمد صاحب بیمار ہو گئے ہیں یالا پرواہ ہو گئے ہیں۔یہ لا پرواہی بھی ایک قسم کی بیماری ہی ہے بہر حال مجلس صحت کو پوری طرح بیدار رہ کر اور پورے زور سے عمل کرنے والی ایک فعال مجلس بننا چاہیے۔سارار بوہ اس کا ممبر ہے۔میں نے یہ ہدایت کی تھی کہ جلسہ سالانہ سے پہلے سیر کا ایک اور مقابلہ کرایا جائے جس میں ربوہ کا ہر مکین یعنی مرد شامل ہو اور اس کے لئے اخبار کے ذریعہ بار بار اعلان کیا جائے۔سیر کا مقابلہ تو آج ہو گیا ہے الْحَمدُ لِلهِ۔یہ پتہ نہیں کہ کتنے دوست اس میں شامل ہوئے ہیں تاہم یہ اصول ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ کسی کام کو پوری طرح کامیاب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی بار بار یاد دہانی کرائی جائے اور اس طرح ایک بیداری پیدا کر دی جائے جو اصل کامیابی کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہے۔اَلْحَمدُ لِلہ کچھ کام تو ہو گیا ہے لیکن جلسہ سالانہ تک اور بہت