خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 490 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 490

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹۰ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء یہ کہ پتہ نہیں وہ کپڑے کس سے اور کہاں سے لائے گئے تھے۔چنانچہ جب ہم نے وہ کپڑے پہنے تو زور سے سانس لینے پر ان کے دھاگے ٹوٹ گئے اور سلائی کھل گئی یوں لگتا تھا کہ چھوٹی چھوٹی گڑیوں کو پہنانے والے کپڑے ہیں ہم نے کہا ہم راضی برضائے الہی ہیں۔غرض میں اس وقت صرف یہ بات بتا رہا ہوں کہ دنیا کے جو کپڑے ہیں ٹھیک ہے ان میں بعض خوبصورت بھی ہیں لیکن بعض دکھ بھی ان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔گو ملک کی اکثریت کھدر کے کپڑے پہنتی ہے لیکن بعض لوگوں کے ہاں نائیلون کے کپڑے پہنے کا فیشن ہے کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں تو کھردرا پن نہیں ہوتا۔کھردرا پن تو بے شک نہیں ہوتا مگر کئی لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ نائیلون پہنیں تو ان کو الرجی ہو جاتی ہے۔بعض لوگوں کا نائیلون پہننے سے پسینہ بند ہو جاتا ہے بعض کو پسینہ زیادہ آنے لگ جاتا ہے۔بظاہر یہ کپڑا بڑا خو بصورت لگتا ہے مگر پتہ نہیں لوگوں نے کس گند کو اکٹھا کر کے اور کون سا فارمولا لگا کر نائیلون کا کپڑا بنادیا جو دیکھنے میں بڑا خوبصورت مگر پہننے کے لحاظ سے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔میں خود بھی یہ کپڑا نہیں پہن سکتا۔کچھ تو اس سے مجھے طبعاً گھن آتی ہے اور کچھ اس سے مجھے تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے مجھے تو گرمیوں میں سوتی کپڑے کی تلاش رہتی ہے اب تو اچکن سلوانے کے لئے سوتی کپڑا آسانی سے نہیں ملتا۔اس کے لئے بھی بڑی تلاش کرنی پڑتی ہے۔پس اس قسم کی جو مثالیں ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ دنیوی نعمتوں کے ساتھ بعض دکھ پہنچانے والے حصے بھی لگے ہوتے ہیں۔لیکن روحانی نعمتوں کے ساتھ دکھ اور تکلیف نہیں ہوتی۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے جمعہ اور رمضان کا یہ مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے ابھی میں نے ایک اور بات بھی کہنی ہے ) آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے اور وہ یہی قبولیتِ دعا کا تعلق ہے۔رمضان کا جمعہ بالخصوص یہ آخری جمعہ ہمیں یہ چیلنج دیتا ہے اور کہتا ہے اگلے سال میں پھر آؤں گا تو دیکھوں گا تم نے روحانی طور پر ترقی کی ہے یا نہیں۔پس رمضان کا مہینہ تو اب گزرا چاہتا ہے اس میں قبولیت دعا کی جو دکان کھلی تھی یہ ہر جمعہ کوکھلتی رہے گی جس میں روحانی اجر اور ثواب، اللہ کے فضل اور اس کی رحمتیں ، قسما قسم کی برکتیں اور نعمتیں میسر آئیں گی۔مگر ہر انسان اپنے اپنے اعمال