خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 489 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 489

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۹ خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۷۲ء پکارا ہے۔چنانچہ فرمایا کون ہے جو اللہ تعالیٰ سے تجارت کرتا ہے، جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نیک نیتی سے تجارت کرتے ہیں وہ گھاٹے میں نہیں رہتے۔قرآن کریم کہتا ہے اپنے بھائی کی خبر گیری کر کے اللہ کی رضا حاصل کرو یعنی اپنی طرف سے پوری کوشش کرو کہ کوئی آدمی بھوکا نہ رہے۔کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو تو اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے دعا اور سخاوت بھی کرنی چاہیے۔یعنی اس کے لئے دوائیوں کا انتظام کرنا وغیرہ ہزاروں نیکیاں ہیں جن کے کرنے سے خدا تعالیٰ کی رحمتیں مل سکتی ہیں اور وہ ساری رمضان کی دکان میں موجود ہیں۔لیکن سخاوت کرو گے تو خدا کی رحمت ملے گی۔غرض تم نے اپنی محنت سے اپنے مجاہدہ کے ذریعے اور عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے روحانی برکات کو حاصل کرنا ہے۔یہ بھی اسی طرح کی ایک دکان ہے جس طرح مثلاً انگلستان میں ہر ہفتہ منڈیاں لگتی ہیں۔یہاں بھی بعض جگہ میلے لگتے ہیں۔گویا ہر ہفتہ جمعہ کے دن ایک روحانی میلہ لگتا ہے اور جمعہ کی برکتوں کے حصول کے لئے جو چیز تمہاری جیب میں ہونی چاہیے وہ روحانی طور پر تمہاری مقبول محنت ہے جس کے نتیجہ میں وہ گھڑی ملتی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے اور خدا کا فضل نازل ہوتا ہے۔انسان کی خالی محنت تو کافی نہیں جب تک اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل نازل نہ ہو۔پس یہ محنت اور انتہائی محنت یعنی تدبیر اور دعا کو انتہا تک پہنچانے ہی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے۔جب انسان کی محنت قبول ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اے میرے بندہ ! جا اور اس روحانی دکان سے حسب پسند چیزیں خرید لے پس بڑا خوبصورت ہے وہ مال جو روحانی دکان سے ملتا ہے اور بڑی لذت اور سرور ہے اس کھانے میں جو روحانی طور پر ملتا ہے اور بڑا نرم اور آرام پہنچانے والا ہے وہ کپڑا جو ہمیں روحانی طور پر میسر آتا ہے اس دنیا کی چیزیں تو بڑی کھردری اور چھنے والی ہوتی ہیں۔لیکن روحانی نعمتیں تو اس قسم کی نہیں ہوتیں کیونکہ ان کے ساتھ امتحان نہیں ہوتا۔ویسے کبھی کبھی کھدر کے کھردرے کپڑے بھی پہننے پڑتے ہیں جب ہمیں ۱۹۵۳ء میں ظالمانہ طریق پر پکڑ کر لے گئے تھے تو ہمارے پہننے کے لئے کھدر کے موٹے موٹے کپڑے لے آئے کہ تمہیں سی کلاس دینی ہے دل میں سوچا کہ خدا کے لئے یہ کھدر کیا کانٹوں کے کپڑے دیں تو وہ بھی پہن لیں گے مگر