خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 465
خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء یہ انقلاب عظیم بھی ایک تسلسل کے ساتھ غلبہ حاصل کرتے ہوئے دنیا میں آخری اور عظیم غلبہ حاصل کرے گا اور بنی نوع انسان قیامت تک اس کی برکتوں کا پھیلاؤ دیکھیں گے۔پس فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّینِ کی رو سے کون ہے جو اپنے ہوش وحواس میں ہومگر وہ یہ کہے کہ ایسے کامیاب انقلابات کے بعد ( دراصل یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی انقلاب ہے لیکن وہ مضمون علیحدہ ہے ) جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر چوتھے انقلاب عظیم میں داخل ہو گئے ہیں (اگر پہلے تین انقلاب کامیاب ہوئے ہیں تو کون ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلاب ناکام ہو جائے گا۔دنیا کی کوئی تدبیر، ظلمات کی کوئی کوشش اس انقلاب کو نا کام نہیں کر سکتی اور نہ اس نور کو اندھیرے میں تبدیل کر سکتی ہے۔پس اس سے یہ ثابت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ احکم الحکمین ہے ہر چیز پر اس کا حکم چلتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے صد ہا سال پہلے آدم کے وقت یعنی پہلی روحانی رہنمائی کے وقت جو انسان نے اس سے حاصل کی شیطان کو کہا تھا کہ میرے نیک بندوں پر تیرا داؤ نہیں چل سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اور اس کا فیصلہ تھا اور اسی کا حکم چلا۔اسلامی تاریخ یا انسانی تاریخ کے کسی دور پر نظر ڈال کر دیکھ لو سوائے ان محروموں اور بدبختوں کے جو خدا تعالیٰ سے دور جا پڑے تھے شیطان کی گود میں کون گیا ؟ تھوڑی بہت کامیابی جو شیطان کو ہوئی یہ تو ان کی اپنی کمزوری کا نتیجہ ہے۔پس جو مہم ان انقلابات کے ذریعہ روحانی غلبہ کی چلائی گئی تھی اس پر نظر ڈالنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حکم اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے الحُكْمُ لِلہ۔دوسرے یہ کہ وہ احکمُ الْحَكِمِينَ ہے۔فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدین کو میں پھر لیتا ہوں میں آج کل کے حالات سے اس کا کچھ جوڑ ملانا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی انقلاب کی اس مہم کو نا کام نہیں کر سکتی۔کون سی تدبیر اس قابل ہوگی کہ وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوی کو جھٹلا سکے کہ الدین یعنی دین کا کامل غلبہ آپ کے حصہ میں مقدر ہے پس جہاں یہ پتہ لگتا ہے کہ دینِ اسلام کے خلاف شیطان کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوگی وہاں اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ شیطانی تدبیریں ضرور ہوں گی کیونکہ جہاں شیطان کا اثر ہوتا ہے وہاں شیطانی تدبیر