خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 461
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۶۱ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء کر سکتے ہیں۔اس لئے درس چار بجے ختم ہوگا۔اس کے بعد یہاں بھی نماز ہوگی۔مستورات اس میں شامل ہوں اور ہمارے وہ بزرگ دوست جو نماز جنازہ میں شامل نہیں ہو سکتے اور ان کی مجبور یاں ہیں وہ یہاں نماز ادا کریں اور میں رمضان میں عصر کی نماز پڑھنے کا جو معمول ہے یعنی چار بجے پڑھنے کا اس کی بجائے پندرہ یا بیس منٹ بعد مسجد مبارک میں نماز پڑھاؤں گا اور اس کے بعد نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے اور طاقت بخشی ہے وہ وہاں نماز کے لئے پہنچ جائیں اور اپنے ان مخلص بھائیوں کی نماز جنازہ میں شامل ہوں۔خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر سورہ تین میں جن چار زبردست انقلابات (اور جن میں سے چوتھا ایک عظیم انقلاب ہے ) کا ذکر ہے ان کی روشنی میں میں نے تاریخ انسانی پر طائرانہ نظر ڈالی تھی کیونکہ مضمون بہت لمبا ہے اور میں سادہ طریق پر خدام اور اطفال کو یہ مسئلہ سمجھانا چاہتا تھا اس لئے مجھے صرف اس کا خاکہ پیش کرنے کا موقع ہی مل سکا تھا چنانچہ سورۂ تین میں جن چار روحانی انقلابات کا ذکر کیا گیا ہے اُن پر میں نے مختصراً چند مثالیں دے کر روشنی ڈالی تھی اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو انقلاب عظیم دنیا میں بپا ہو چکا ہے اور چودہ سوسالہ مدارج میں سے گذر کر اپنے آخری غلبہ کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اس سلسلہ میں سورۂ تین کی ان چارا نقلابات سے متعلقہ آیات کے بعد کی جو آیتیں ہیں۔ان کو میں نے مختصراً بیان کر دیا تھا۔آج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ اس مضمون کو واضح کر دینا چاہتا ہوں تا کہ بعض دوست جو اس کے متعلق غور کریں گے ( بہت سے ہمارے دوست مسائل پر غور کرنے کے عادی ہیں ) میرا علم جو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں مجھے سکھایا ہے وہ ان تک پہنچ جائے۔قرآن کریم کی آیات کے مختلف بطون ہوتے ہیں اور ہر نیا بطن یا نیا مضمون جو بیان ہوا ہے وہ ہماری نظر کے سامنے قرآن کریم کے حسن میں ایک اضافہ پیش کرتا ہے۔قرآن کریم تو کامل حسن کا مالک ہے۔اس کا حسن تو ہمیشہ ہی کامل ہے اور اس کے احسان کے جلوے ہمیشہ کامل ہیں لیکن حالات کی نسبت سے ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ضرورتیں بدلتی ہیں۔علم کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں چنانچہ جو مضمون میں نے سورہ تین کی تفسیر میں بیان کیا تھا اس کے تسلسل میں اگلی آیتوں