خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 448 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 448

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۸ خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء ایک بڑا تناور درخت بن جاتا ہے۔حسین پتوں اور خوبصورت پھولوں کے ساتھ چمک اُٹھتا ہے۔موہبتِ الہیہ یعنی آسمان سے جو رحمت نازل ہوتی ہے ، وہ اس کو پھولوں کا حسن بھی بخشتی ہے اور پھل کی افادیت بھی دیتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو خشوع کی حالت ہے وہ ایمان کے بیج کی روحانیت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ایک تو اس کے اندر نمو کی طاقت کو قائم رکھتی ہے کیونکہ اس سے آگے چل کر درخت نے حصہ لینا ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے روحانی طور پر ہم اس کو غائب نہیں سمجھ سکتے۔پھر اس کی صفات ( جو بھی ہیں اُن ) کو قائم رکھنے کے لئے، ان کی بڑھوتی کے لئے ، ان کی نشوونما کے لئے ، روحانی بیج یعنی ایمان کا بیج قائم رہتا ہے۔اس کے لئے جو پانی اعمالِ صالحہ کے طور پر دیا جاتا ہے وہ خشوع کی حالت ہے، وہ انسان کی عاجزانہ اور متضر عانہ حالت ہے۔یہ ایک بنیاد ہے اس پیج کے قیام کی۔کیونکہ جب عاجزی غائب ہوگی جب عاجزی اور تضرع کا پانی نہیں ملے گا تو انسانی درخت وجود کی شاخیں مرجھا اور تنا سوکھ جائے گا۔اس واسطے تمام اعمالِ صالحہ کے بیچ اور جڑ کو زندہ رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان تکبر اور خود پسندی اور خود رائی اور انانیت سے بچے۔عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کے حضور ہمیشہ عاجزانہ طور جھکا رہے کیونکہ اس کے بغیر بیج اور جڑ زندہ نہیں رہ سکتے۔یہ عاجزی اور انکسار بھی بمنزلہ پانی کے ہے بلکہ یہ باقی پانیوں کی بنیاد ہے۔جس طرح مثلاً شہد کی مکھی ہے۔جہاں وہ نیکٹر یعنی پھولوں کا رس جمع کر کے شہد بناتی ہے وہاں وہ اپنی ملکہ کے لئے رائل جیلی (سائنسدانوں نے یہ نام دیا ہے وہ بھی بناتی ہے اور اس سے اس کی زندگی اور پیچ کے قیام میں بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔وہ یعنی ملکہ اس کے نتیجہ میں بہت زیادہ انڈے دیتی ہے اور چھتے کی اجتماعی زندگی کو قائم رکھتی ہے۔اسی طرح عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے ایمان کے بیج کی قوتوں کو محفوظ کیا جاتا ہے۔انہیں قائم رکھا جاتا ہے ان کو مضبوط کیا جاتا ہے اُن کے اندرحسن کے نمو کی صفت کو پیدا کیا جاتا ہے اور ثمر آور بنے کی حالت تک پہنچنے کے جو سامان ہیں وہ اس کے لئے مہیا کئے جاتے ہیں۔غرض خشوع اور عاجزی کی جو حالت ہے یہ سارے اعمالِ صالحہ کے پانی کی بنیاد ہے۔یوں