خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 447

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۷ خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء بتایا ہے کہ کون سے اعمال درخت کی نشوونما کے کس حصہ سے تعلق رکھتے ہیں۔تاہم اس میں ایک فرق ضرور ہے اور وہ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے۔مثلاً آم کا درخت ہے اس کا بیج جب نئی زندگی پاتا ہے تو اس کی شکل ختم ہو جاتی ہے۔اگر آپ آم یا دوسرے درختوں کی جڑوں کو کھو دیں تو کہیں بھی بیچ نظر نہیں آئے گا۔چنانچہ بعض پیج اپنی شکل کو چند دنوں میں کھو بیٹھتے ہیں۔بعض بیج اپنے وجود کو چند ہفتوں میں ، بعض چند مہینوں میں اور ممکن ہے بعض درخت جن کی عمریں لمبی ہوتی ہیں اور بیج بڑا سخت ہوتا ہے اُس کا وجود چند سال میں ختم ہوتا ہو۔تاہم اس مؤخر الذکر صورت کا تو مجھے ذاتی طور پر علم نہیں لیکن مہینوں میں ختم ہونے والے بیجوں کا تو مجھے علم ہے۔ایسے بیج چند مہینوں کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد جو غذا ان درختوں کو دی جاتی ہے اس غذا کا تعلق بیج کے وجود کے ختم ہوجانے کے بعد پھر بیج سے نہیں رہتا بلکہ درخت کی جڑوں کے ساتھ ہو جاتا ہے لیکن جو انسان کا بیج ہے جس نے آگے چل کر درخت بننا ہے اس کو ایسی غذاملتی رہنی چاہیے کہ جو چیز اس دُنیوی مادی درخت کی انسان کی نظر سے غائب ہو گئی اور اس کے لئے ہمیں کوئی فکر کی ضرورت نہیں رہی وہ روحانی دنیا میں غائب نہیں ہوتی۔اس لئے اس کے لئے فکر کی ضرورت رہتی ہے۔اصل میں تو دُنیا کے جو درخت ہوتے ہیں اُن میں بھی وہ چیز غائب نہیں ہوتی کیونکہ اگر پیج کا وجود کلیۂ غائب ہو جائے (صرف انسانی نظر سے غائب ہونے کا سوال نہ ہو بلکہ حقیقتا غا ئب ہو جائے ) تو اس درخت کو پھر بیج نہیں آئے گا مگر پھل میں دوبارہ اسی شکل کے بیج کا نکل آنا بتا تا ہے کہ پیج اپنی صفات کے ساتھ اس درخت کے اندر موجودرہتا ہے۔بہر حال مادی درختوں کے بیج نظر سے اوجھل ہو جایا کرتے ہیں لیکن انسانی درخت وجود کا بیج نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں نہ ہونے چاہئیں۔وگرنہ وہ مثال پورے طور پر صادق نہیں آتی جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن مجید کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ انسانی درخت وجود کا بیچ بھی باقی رہتا ہے۔اس کی جڑیں بھی قائم رہتی ہیں۔زمین سے نکلنے والی اس کی روئیدگی بھی قائم رہتی ہے۔اس کے اوپر بڑھنے والی چھوٹی چھوٹی سی شاخیں بھی قائم رہتی ہیں اور جب شاخیں پھیل جاتی ہیں تو اُن کی مضبوطی بھی قائم رہتی ہے یا رہ سکتی ہے پھر وہ