خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 429
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۹ خطبہ جمعہ ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ء فرمائے۔جب تک ساری قوم مومنانہ فراست سے حصہ نہیں لیتی اور مومنانہ قربانیوں اور ایثار کا مظاہرہ نہیں کرتی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل اس رنگ میں تو ہماری دعاؤں اور قربانیوں کے نتیجہ میں بھی ظاہر نہیں ہو سکتے جس رنگ میں اس صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں کہ ساری کی ساری قوم خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔اس کے سامنے عاجزانہ طور پر جھکے اور اسی سے ہر قسم کی خیر و برکت چاہے۔پس ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری قوم پر فضل فرمائے۔ان مختصر الفاظ کے بعد میں ایک اور بات یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں موت وحیات کے سلسلہ تو انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔جماعت احمدیہ پر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، اُن ذمہ داریوں کو جماعت احمدیہ کی صرف ایک نسل پوری طرح ادا نہیں کر سکتی کیونکہ قربانیوں کا زمانہ اپنے اندر بڑی وسعت اور پھیلاؤ رکھتا ہے۔ساری دنیا کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بندھنوں میں باندھنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔آپ سوچیں اور ان بشارتوں کو دیکھیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو دی ہیں اور دوسری طرف ان کمزوریوں پر نظر ڈالیں جن میں ہم خود کو پاتے اور نہایت بے بسی کی حالت میں دیکھتے ہیں۔ہمارا تو سوچ کر بھی سر چکرا جاتا ہے کہ کتنے عظیم وعدے ہیں اور کتنے کمزور کندھے ہیں۔کتنے وسیع کام ہیں اور کتنے محدود ذرائع ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اور اس کی برکت ہمارے شامل حال نہ ہو۔اگر اس کا حکم فرشتوں کو اور اس عالمین کو اور ان جہانوں کو نہ ہو کہ انہوں نے غلبہ اسلام کے لئے اس چھوٹی سی جماعت کی مدد کرنی ہے تو پھر تو ہماری کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔پس ایک تو ہر احمدی کو ہر وقت یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے جو کام لینا چاہتا ہے اس میں ہم کمزوری نہ دکھا ئیں اور دوسرے ہم نوجوان نسل کی تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دیں کیونکہ جد و جہد، قربانی اور ایثار کے زمانہ میں بڑا پھیلاؤ ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام