خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 428
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۸ خطبہ جمعہ ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ء دوسرے اس سے بھی زیادہ اور بڑی ضرورت یہ تھی کہ ہمارے محترم بھائی ابوبکر ایوب صاحب وفات پاگئے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔مرحوم انڈونیشیا کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ہمارے بچپن میں مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پائی تھی۔ہم اکٹھے ہی پڑھتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ساری عمر مخلصانہ طور پر خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی۔وہ اب ہالینڈ میں مبلغ تھے اور وہیں میدانِ جہاد میں تبلیغ اسلام کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے وفات پاگئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور احسن جزا عطا فرمادے۔ان کا جنازہ یہاں پہنچ چکا ہے۔میں جمعہ کی نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔اس لئے گو بیماری کی وجہ سے مجھے شدید ضعف تھا مگر اس کے باوجود میرا یہاں آنا ضروری تھا تا کہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکوں۔تیسری ضروری بات میں اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کے موجودہ حالات ہر صاحب فراست کے دل میں تشویش پیدا کر رہے ہیں۔اندرونی دشمن دشمنی کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور بیرونی دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمارا دوست نہیں ہے بلکہ وہ ہمارا دشمن ہے اور ان کی باتیں ، ان کے منصوبے، ان کی خواہشات اور ان کے عمل ہمارے ملک کے خلاف ہیں۔گوساری دنیا تو ہمارے خلاف نہیں۔دنیا کا ایک حصہ ہمارا دوست بھی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص سے دوستی نباہنے کی توفیق دے اور اس کی جزا بھی دے لیکن دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمارا دشمن ہے۔جو عجیب شاطرانہ چالوں اور دجالا نہ منصوبوں سے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتارہتا ہے۔پس اندرونی دشمن بھی اس وقت اپنی شرارتوں میں تیز ہو رہے ہیں اور بیرونی دشمن تو بہر حال دشمن ہے۔اس واسطے قوم پر اس وقت ایک ابتلاء کا وقت ہے۔دعاؤں اور صدقات سے ابتلاء دور ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے آپ دعا ئیں کریں اور استحکام پاکستان کے لئے آپ کے لئے جس حد تک ممکن ہو صدقات بھی دیں لیکن اس سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کے باشندوں کو بھی دعا کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا