خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 402 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 402

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۰۲ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء ہیں پہلے زمانے میں جب اسلام کے دفاع میں جنگ لڑی جاتی تھی تو کسی وقت تلوار کی جنگ ہو رہی ہوتی تھی اور کسی وقت تیر کی جنگ ہو رہی ہوتی تھی۔یا ایک وقت میں تیر چلتے تھے تو دوسرے وقت میں تلوار میں اور نیزے نکل آتے تھے۔پس ہتھیار تو دونوں قسم کے استعمال ہوں گے لیکن زیادہ اہمیت اب آسمانی نشانوں کو دی جائے گی۔دوسرے نمبر پر دلائل قاطعہ اور براہینِ ساطعہ ہوں گے۔اس دور کے پہلے حصے میں زیادہ اہمیت دلائل کی تھی اور دوسرے نمبر پر معجزات کی ضرورت تھی۔اب معجزات کی اہمیت پہلے نمبر پر ہے اور دلائل کی حیثیت ثانوی ہے۔گو دونوں ہتھیار ہی نہایت اہم ہیں۔جیسا کہ میں اپنے ایک خطبہ جمعہ میں بتا چکا ہوں کہ اس مہم میں کامیابی کے لئے جہادا کبر کی بڑی ضرورت ہے۔جہادا کبر کا مطلب ہے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے مجاہدہ کرنا، اپنے نفس کی تربیت کرنا اپنے نفس کا ایسا محاسبہ کرنا جس کے نتیجہ میں مقبول عبادت کی توفیق مل جائے یعنی حقیقی عبادت اور قربانی جسے اللہ تعالیٰ قبول بھی فرما لے۔دراصل مقبول عبادت کے بغیر طہارت اور پاکیزگی نصیب نہیں ہوتی اور پاکیزگی کے بغیر آسمانی نشان نہیں ملتے۔اس لئے اس دور میں جس میں ہم داخل ہو رہے ہیں ہم میں سے ہر چھوٹے اور بڑے خصوصاً نو جوانوں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کو پاک کریں۔جہاں تک اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے روحانی جنگ کا تعلق ہے اس کے متعلق تو خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اس کا وعدہ ہے اور آسمانوں پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ جنگ ہم نے جیتنی ہے۔تم میدان میں نہیں آؤ گے تو کوئی اور آجائے گا۔اللہ تعالیٰ کوئی اور قوم لے آئے گا۔یہ جنگ بہر حال جیتی جانی ہے۔تاہم یہ جنگ ایٹم بم سے نہیں جیتی جانی یہ جنگ دلائل اور آسمانی نشانوں کے ذریعہ جیتی جانی ہے اس کے لئے ایک بڑی زبردست اور تربیت یافتہ روحانی فوج تیار ہونی چاہیے۔اور وہ جہادا کبر کے ذریعہ یعنی نفس کے محاسبہ اور تربیت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔پس جماعت کے ہر چھوٹے اور ہر بڑے بالخصوص نوجوانوں کو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنے نفس کی تربیت اور اصلاح میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے میں اس مضمون کو مختصر کر دیتا ہوں۔