خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 392
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۲ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء ساتھ مسلمانوں نے مقابلہ کیا اور بالآخر ان پر فتح پائی۔پہلے بھی میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ حضرت خالد بن ولید جب تک کسری کے مظالم کا مقابلہ کرتے رہے اُن کے پاس غالباً چودہ ہزار فوج تھی۔اُنہوں نے کسری کے خلاف سات آٹھ لڑائیاں لڑی ہیں۔ہر لڑائی میں کسری ساٹھ ستر ہزار تازہ دم فوج بھیجتا تھا۔علاوہ ازیں جو پہلی لڑائیوں کے بچے کھچے لوگ ہوتے تھے وہ بھی اُن میں شامل ہو جاتے تھے ان کو تو چھوڑ و۔وہ تو پہلے لڑ چکے ہوئے تھے۔چنانچہ ان چودہ ہزار مسلمانوں نے مجموعی طور پر قریباً پانچ لاکھ فوج کا مقابلہ کیا ہے کسریٰ کی تازہ دم فوجیں آتی رہیں اور مسلمانوں کی وہی فوج جو پہلے لڑتی چلی آرہی تھی۔اس میں سے بھی بعض زخمی ہو گئے۔کچھ شہید بھی ہو گئے۔اس سارے عرصہ میں مسلمانوں کو صرف ایک آدمی کی کمک پہنچی تھی۔چنانچہ حضرت خالد نے شروع میں جب کمک مانگی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ تم چلے جاؤ۔خالد کو مدد کی ضرورت ہے۔اس پر مدینے والے حیران بھی ہوئے تھے اس کی تفصیل میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں۔پس اسلام کے چوتھے دور میں ایک طرف کسری سے جنگ ہورہی تھی تو دوسری طرف قیصر سے جنگ ہو رہی تھی وہ مسلمانوں پر بدنیتی سے حملہ آور ہوئے تھے وہ اسلام کو مٹا دینا چاہتے تھے۔اُن کا خون کھول رہا تھا کہ کل تک جنہیں ہم بدو سمجھتے تھے وہ آج ہمارے حاکم بننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اس لئے وہ بڑے غصہ میں آتے تھے۔یہ نہیں کہ انہوں نے اسے کھیل سمجھا تھا حملہ کرنے آگئے تھے۔وہ بڑی جانبازی سے لڑتے تھے۔وہ بڑی بہادر قو میں تھیں اور بڑی تجربہ کار بھی تھیں۔چنانچہ اُن کے بعض ایسے جرنیل بھی تھے جنہوں نے کئی کئی لڑائیوں میں شاندار فتح حاصل کی ہوئی تھی ، اُن کے لئے کسریٰ کا حکم تھا کہ انہیں ایک لاکھ روپے کی ٹوپیاں پہنا دی جائیں۔ایک لاکھ روپے تو بڑی رقم ہوتی ہے۔مخمل کی ٹوپی پر چند روپے خرچ آتے ہیں۔اس لئے ٹوپیوں پر لاکھ لاکھ روپے کے ہیرے اور جواہرات جڑے ہوتے تھے۔اب تو بہادری کے کارناموں پر فوجیوں کو تمغے ملتے ہیں۔اُس وقت ایرانیوں میں ہیرے جواہرات کی ٹوپیاں پہنانے کا رواج تھا چنانچہ ایک ایک لاکھ روپے کی ٹوپی پہنے والے جرنیل کا مطلب یہ ہے کہ اس