خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 391
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۱ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء کیا ہے۔وہ اس کو ضرور پورا کرے گا۔کیونکہ وہ سب طاقتوں کا مالک ہے۔پھر یہ دور بھی ختم ہو گیا۔اسلام کو ظاہری شان و شوکت نصیب ہوئی۔سارا عرب مسلمان ہو گیا پھر کسری اور قیصر مقابلے پر آ نکلے۔اُن کو اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔اس سے پہلے وہ آپس میں بھی لڑ چکے تھے۔ان کی باہمی لڑائی کے جو واقعات رونما ہوئے تھے ان میں اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت کارفرما ہے۔اس سے ہمیں بڑے سبق ملتے ہیں چنانچہ اُس زمانے میں ایک وقت میں کسری کی فوجوں نے قیصر کی فوجوں پر فتح حاصل کی اور دوسرے موقع پر قیصر کی فوجوں نے کسریٰ کی فوجوں پر فتح حاصل کی اور اس وقت اسلام اپنی مکی زندگی اور مدنی زندگی میں یعنی جیسا کہ میں نے ادوار گنوائے ہیں اس لحاظ سے دوسرے اور تیسرے دور میں سے گذر رہا تھا۔پس ان کی آپس کی لڑائی کے یہ دو واقعات خاص حکمت کے ماتحت رونما ہوئے اور اس سے دُنیا کو یہ بتانا تھا کہ ہر دو بہت بڑی طاقتیں ہیں۔اگر ان کی یہ جنگیں نہ ہوتیں تو آج مخالف تاریخ دان اور مستشرق اور دوسرے لوگ بھی یہ کہہ دیتے کہ اسلامی فوجوں نے کیا کارنامہ دکھایا۔یہ تو چھوٹی چھوٹی حکومتیں تھیں۔اُن کے پاس تھوڑی تھوڑی فوج تھی لیکن جب وہ ایک دوسرے کے خلاف میدانِ جنگ میں آئیں تو ساری دُنیا کی طاقت بٹ کر دونوں میں آگئی ساری دنیا کے ہتھیار بٹ کر دونوں کے پاس آگئے۔اُن علاقوں میں جہاں ہاتھی استعمال نہیں ہوتے تھے وہاں ہاتھی استعمال کئے گئے۔اُن کے بعض سپاہیوں نے اپنے پاؤں کو بڑی بڑی زنجیروں سے باندھ لیا یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ انہیں بھاگنے کی ضرورت نہیں۔گو اس میں اور بھی بہت حکمتیں تھیں لیکن ایک یہ حکمت بھی تھی کہ انہیں میدانِ جنگ سے بھاگنے کی ضرورت نہیں چنانچہ ان دونوں کی آپس کی جنگ میں کئی لاکھ کا مقابلہ کئی لاکھ کی فوجوں سے ہوا۔بعد میں جب ان کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی ہے تو میرا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کی مجموعی طور پر کوئی آٹھ لاکھ فوج بنتی تھی۔حالانکہ مسلمانوں کی یرموک کے میدان میں قیصر کی فوج سے لڑنے والی صرف ۳۰/۴۰ ہزار فوج تھی۔بعض لوگوں نے یہ تعداد زیادہ بھی بتائی ہے لیکن عام طور پر تاریخ دان ۴۰ ہزار فوج بتاتے ہیں ان کے مقابلے میں قیصر کی کئی لاکھ فوج تھی۔ایک اندازہ کے مطابق تین لاکھ فوج تھی جس کے