خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 359

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۹ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء کانوں کو کھجلاتے رہتے اور آپ کے کان کے سوراخ خطبہ سننے کے قابل نہ ہوتے تو پھر تو ہمارا یہاں جمعہ پڑھنا ہی بے فائدہ تھا۔ہم نماز پڑھتے اور جن دوستوں نے جلدی جانا تھا وہ اپنے گھروں کو چلے جاتے بہر حال خطبہ جمعہ کے متعلق یہ تاکیدی ارشاد ہے کہ خطبہ اتنی توجہ اور خاموشی سے سنا جائے کہ پاس بیٹھا آدمی اگر بولے بھی تو اسے منع کرنے کی طرف انسان کی توجہ نہ ہو ایسے شخص کو منع کرنے سے بھی روکا ہے کیونکہ اس سے اور زیادہ شور مچے گا۔دوسری بات آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ملک میں اس وقت بڑا فتنہ وفساد برپا ہے۔اس سلسلہ میں میں پہلے بھی دو خطبے دے چکا ہوں۔آج میں بنیادی طور پر جو ہماری ذمہ داری ہے احباب کو اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ہمیں بڑی دعائیں کرنی چاہئیں مفسد عجیب طرح کے فتنے سوچتا ہے۔مثلاً ۱۹۵۳ ء میں جو فسادات ہوئے تھے عام طور پر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فسادات احمدیوں کے خلاف تھے۔ایسا نہیں تھا بلکہ ان کی شکل یہ تھی کہ ایک وقت تک ”مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگتے رہے اور پھر ایک خاص وقت پر آکر مرزائیت مردہ باد کا نعرہ زبان پر آیا ہی نہیں بلکہ حکومت مردہ باد کے نعرے لگنے لگے۔چنانچہ جب بھی فساد شروع ہوتا ہے ہمیں گالیاں دینے سے شروع کرتے ہیں اور ختم کرتے ہیں حکومت کے خلاف نعرے لگانے پر اور اس کے خلاف سخت فساد پیدا کر کے حکومت کا تختہ الٹنے پر۔یہ ایک آسان طریق ہے کہ زور اور طاقت حاصل کرنے کے لئے پہلے وہ ہمارے خلاف نعرے لگاتے ہیں یعنی ابتداء ہمارے خلاف نعرے لگانے سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا حکومت کے خلاف فتنہ اور فساد پر ہوتی ہے۔پس دوستوں کو بڑی دعا کرنی چاہیے۔اب نعرے بھی لگ رہے اور خفیہ سکیمیں بھی بن رہی ہیں اس خیال کے ماتحت کہ شاید ہمیں پتہ نہیں لگے گا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جہاں بھی شرارت کی باتیں ہوتی ہیں تو انہی میں سے کوئی شخص آکر بتا دیتا ہے کہ فلاں جگہ اس قسم کی شرارت کی بات ہو رہی ہے اگر چہ ہم بڑے غریب ہیں ہمارے پاس سامان نہیں ، سیاسی اقتدار نہیں، حکومت نہیں ہم تو خدا تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں تاہم ہماری جماعت ایک ایسی جماعت ہے جس کے دل میں یہ تڑپ ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے۔اسلام کے مقابلے میں تمام ادیان باطلہ