خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 353

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۳ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء انسانی قوتوں اور استعدادوں کے تعطل کی وجہ سے انسان کو گو یا بھوکا مار دیا۔اس کی قوتوں کی نشوونما میں روک پیدا کر دی۔اس کا جتنا دماغ تھا اس کے مطابق اس کے لئے سامان نہیں پیدا کئے۔مثلاً ایک غریب آدمی ہے اس کے گھر ایک ذہین بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔دسویں تک تو وہ اسے جوں توں کر کے پڑھاتا ہے مگر پھر اس کی غربت آڑے آتی ہے بچے کو پڑھائی چھوڑنی پڑتی ہے۔اب وہ لڑکا جو مثلاً ڈاکٹر سلام کا ہم پلہ بن سکتا تھا اس کا دماغ اور اس کی ذہانت ضائع ہو جاتی ہے۔وہ کلر کی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ہمارے پھوپھا جان حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ دھوبی کے لئے اشتہار دیا تو ایک بی۔اے یا ایم۔اے پاس کی درخواست آگئی وہ تو خیر پڑھ گیا تھا پھر بھی اس کو ملازمت نہ ملی لیکن کسی بیچارے کو تو مزید پڑھنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔پس یہ نسل کشی ہے۔نسل کشی کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ غلط فیملی پلاننگ کی جائے یا بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیا جائے یا انہیں بھوکا رکھ کر مار دیا جائے یا جس طرح بعض ظالم عیسائی بادشاہ کیا کرتے تھے کہ پہلے وہ عیش کرتے اور پھر نا جائز بچوں کو قتل کر کے تہہ خانوں میں پھنکوا دیتے یہ اور اس طرح کے ہزاروں ظلم ہیں جو انسان انسان پر کر رہا ہے۔غرض قوتوں اور استعدادوں کا ضیاع بھی نسل کشی ہے۔اللہ تعالیٰ نے در حقیقت بنیادی طور پر ہمیں دو ہی چیزیں دی ہیں اور یہ ایک ایسی بڑی نعمت ہے جو نہ ہمارے تصور میں آسکتی ہے اور نہ اس کی وسعتوں کا احاطہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس پر اللہ تعالیٰ کا کما حقہ شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔ایک تو انسان کے اندر یعنی انسانی فطرت کے اندر جو استعدادیں پیدا کیں اور ان استعدادوں کی کامل نشو و نما ہے۔تسخیر کائنات کے لئے اور دوسرے انسان کی بہبود کے لئے تخلیق کا ئنات یعنی اس عالمین کی مادی اشیاء یا ذرائع پیداوار ہیں۔یہ دونوں چیزیں ہیں یعنی مادی ذرائع پیداوار اور ان سے کما حقہ مستفید ہونے کے لئے۔(۲)۔انسانی قوتیں اور استعدادیں۔ایک کو قرآن کریم کہتا ہے حرث اور دوسرے کو نسل۔ایک وہ ہے جس کو انسان تیار کرتا ہے۔پھر اس سے کچھ حاصل کرتا ہے۔بعض دفعہ اچھی نیت سے بعض دفعہ بری نیت سے