خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 352
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۲ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء کے لئے بھی تمہیں نہیں دیں گے تو پھر تم کہاں سے ان کے ہمدرد بن بیٹھے ہو؟ میں نے پچھلے سال ایک مزدور لیڈر سے کہا تھا کہ دیکھو تم جب ہڑتال کراؤ گے تو جب تک بیچارے مزدور کے دل میں جذبہ ہے وہ قربانی دیتا چلا جائے گا۔اس کے گھر میں جو جنس پڑی ہے وہ چپ کر کے کھالے گا اور کہے گا ہمارے مزدور لیڈر نے کہا ہے ہڑتال کرنی ہے سو میں ہڑتال میں شامل ہو جاتا ہوں۔مگر جب یہ ہڑتالوں کا سلسلہ لمبا ہو جائے گا تو پھر وہ اپنا سامان بیچنا شروع کر دے گا اور اس طرح اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالے گا۔کیونکہ وہ بھوکا تو نہیں رہ سکتا۔پھر جس وقت اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا تو اسے ہوش آئے گا اور وہ واپس پلٹے گا۔تو اس وقت وہ مالک کا گریبان نہیں پکڑے گا اور اس کے پیٹ میں چھر انہیں گھونپے گا بلکہ وہ تمہاری ( مزدور لیڈر کی ) گردن پکڑے گا۔وہ سوچے گا میرا مالک ظالم تھا مگر وہ پھر بھی میرا آدھا پیٹ تو بھر دیتا تھا میرا مزدور لیڈر اس سے بھی بڑھ کر ظالم ہے۔اس نے مجھے بالکل ہی بھوکا مار دیا ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ بیچارہ مزدور ہر دو لحاظ سے مظلوم ہے۔جب اس کا مالک کارخانے کو مقفل کر دیتا ہے تب بھی اس پر ظلم ہوتا ہے اور جب اس کا لیڈر بیوقوفی سے اس سے ہڑتال کرواتا ہے تب بھی اس پر ظلم ہوتا ہے اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ جب کبھی اسلام زندہ باد کا نعرہ لگوانے والے اسے جلوس میں آگے کر دیتے ہیں۔تب بھی اس پر ظلم ہوتا ہے نہ نعرہ لگوانے والوں کو اسلام کا پتہ اور نہ اس بیچارے کو اسلام کا کوئی علم دیا گیا نہ اسلام کے متعلق کچھ پڑھایا گیا اور نہ اسلام کی حقیقی روح کا اس کو کچھ پتہ ہے اس صورت میں اس مظلوم مزدور کا ایک ہی ہمدرد ہے اور وہ ہے اسلام ، وہ ہے قرآن کریم کی یہ حسین تعلیم جسے اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹے سے فقرے میں بیان کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں تک حرث کا تعلق ہے لوگ فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں یعنی ذرائع پیداوار سے انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر جتنی پیداوار حاصل کر سکتا ہے اس کے راستے میں وہ روک بن جاتے ہیں۔انسانی طاقتوں اور قوتوں کے استعمال میں مخل ہوتے ہیں۔اس لئے کہ ذرائع پیداوار کے ساتھ جب تک محنت شامل نہ ہو اس وقت تک کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔چنانچہ