خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 332

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۲ خطبہ جمعہ ۲۸/ جولائی ۱۹۷۲ء اور ایک دہریہ کے ان صفات کے جلووں میں جو فطرت کے نتیجہ میں اس کے اور عرفان کے نتیجہ میں اس کے ظاہر ہورہے ہیں بڑا فرق ہے۔بہر حال فساد سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور یہ اس لئے منع فرمایا ہے کہ اس طرح ایک تو انسان اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے خدا تعالیٰ اس سے پیار نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ وہ اپنی فلاح اور بہبود کے لئے جو اچھے اور نیک نتائج نکالنا چاہتا ہے وہ بھی نہیں نکلتے مثلاً اگر مزدور کسی کارخانے کا گھیراؤ کر لیتا ہے اور اس کو توڑ پھوڑ دیتا ہے تو جو اسکا مطلب اور مقصود تھا کہ اس کا معیار زندگی بڑھ جائے اس کا یہ فعل ( یعنی توڑنے پھوڑنے ) اس کی اس خواہش کی تکمیل میں مد و معاون نہیں بن سکتا بلکہ نتیجہ اس کے اپنے ہی خلاف نکلتا ہے۔کیونکہ اس طرح جب کارخانے بند ہو جائیں گے اور پیداوار نہیں ہو گی تو مزدور کا معیار زندگی کیسے بڑھ جائے گا ؟ پس توڑ پھوڑ کے نتیجہ میں یہ سمجھنا کہ معیار زندگی بڑھ جائے گا ایک سراسر نا معقول اور خلاف عقل بات ہے۔یہ تو میرے مضمون کی تمہید ہے میں آئندہ انشاء اللہ تفصیل سے بتاؤں گا کہ قرآن کریم نے اس مسئلے پر بڑا زور دیا ہے اور فساد کرنے سے منع فرمایا ہے۔کیونکہ فسادی اور مفسد اپنے مفسدانہ اعمال کے نتیجہ میں محنت اور کام کو بھی اور ذرائع پیداوار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے خود اصولی طور پر ذرائع پیداوار بھی بتائے ہیں قرآن کریم کی یہی تو عظمت ہے کہ وہ ایسے اصول بتا دیتا ہے جس سے انسانی عقل آگے خود نتائج اخذ کر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ ایک یا دو خطبات میں یہ مضمون ختم ہو جائے لوگ اسے پڑھیں تو شاید ان کی اصلاح ہو جائے اور قرآن کریم کی طرف ان کی توجہ پھر جائے تو وہ فساد سے بچنے اور اصلاح کی طرف لوٹنے کی کوشش کرنے لگ جائیں۔سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔روز نامه الفضل ربوه ۱۳ / اگست ۱۹۷۲ء صفحه ۳ تا ۴)