خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 315
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۱۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بہت بلند ہے۔اس کے متعلق کچھ ہم سمجھ سکتے ہیں اور کچھ ہمارے لئے سمجھنا مشکل ہے۔کیونکہ ہماری اتنی استعداد ہی نہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا کما حقہ علم حاصل کر سکیں۔اس لئے کہ پیدائش کے وقت سے لے کر یومِ وصال تک حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاحیتوں اور استعدادوں میں روز بروز ترقی ہوتی چلی گئی۔ور نہ اگر ترقی نہ ہوتی تو حصول نعمت پہلے سے زیادہ ممکن نہ ہوتا۔خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں ترقی کا ہونا ہمیں بتاتا ہے کہ قبول کرنے والی ، متاثر ہونے والی طبیعت اور نفس کی صلاحیت میں بھی ترقی ہوتی ہے۔ہر آدمی کے اپنے دائرہ استعداد میں اس کی صلاحیتوں کی کمال نشو و نما تب ہی ممکن ہے که یوم پیدائش سے لے کر اس کے یومِ وصال تک اس کی صلاحیتوں اور استعدادوں میں نشود نما ہوتی رہے اور وہ ایک جگہ کبھی نہ ٹھہرے۔اس کا خدا تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیا ہے۔اسی واسطے فرمایا:۔دعا کرتے رہو کہ تمہارا انجام بخیر ہو یعنی یوم وفات کے وقت نفس انسانی روحانی طور پر پہلے سے زیادہ آگے پہنچ چکا ہو۔اگر وہ کسی جگہ ٹھہرا تو گیا۔آج دنیا کا ایک بڑا حصہ (ساری دُنیا تو نہیں ) ترقی پذیر ممالک پر مشتمل ہے اور اس میں ہمارا ملک بھی شامل ہے اس وقت دُنیا کو دراصل دو حصوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ایک تو ترقی پذیر ملک ہیں اور دوسرے ترقی یافتہ مگر تنسڈل پذیر ملک۔جو ترقی پذیر ملک ہیں ان میں ترقی کی رفتار مختلف ہے مثلاً اگر یہ ترقی آسمانوں کی طرف ہو تو آپ کو ایک ملک سطح زمین سے دس فٹ اونچا نظر آئے گا دوسرا دس ہزار فٹ اونچا نظر آئے گا اور تیسرا دس کروڑ فٹ اونچا نظر آئے گا۔پھر جو ترقی یافتہ تنزل پذیر ملک ہیں وہ اگر چہ اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں مگر اب دُنیوی لحاظ سے اُن میں سخت اختلاف پیدا ہو چکا ہے۔ویسے تو روحانی لحاظ سے بھی انسانی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے لیکن اس کے ساتھ میرے اس مضمون کا اس وقت تعلق نہیں تاہم ایسے ممالک کو ہم تنزل پذیر اس لئے کہتے ہیں کہ ایک تو ان میں باہمی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔دوسرے ان کی صلاحیتوں کی جو ایک حد تک نشو و نما ہوئی تھی وہ