خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 296 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 296

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۶ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء لینے کی ضرورت ہے تو پھر تم نے اس طرح نہیں لڑنا۔جس طرح بکریاں لڑتی ہیں یا شیر لڑتے ہیں یا مینڈھے لڑتے ہیں اور یہ اتنے زور سے ٹکر مارتے ہیں کہ انسان سمجھتا ہے کہ اگر وہ اتنے زور سے ٹکر مارے تو اس کی کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ جائے۔پس جس طرح دوسری چیزوں کی آپس میں لڑائی ہورہی ہے۔اس طرح تم نے دوسرے انسان سے بدلہ نہیں لینا لیکن اگر کوئی کہے کہ جس طرح دوسرے لوگ لڑتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی لڑتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا یہ عمل اسلامی تعلیم پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے دوسرے ایسی صورت میں تو وہ حقیقی انسان بھی نہیں ہوتے مثلاً حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص چوری کرتا ہے وہ چوری کرنے کی حالت میں مسلمان نہیں رہتا۔اسی طرح جو شخص بھیٹروں کی طرح ایک دوسرے سے لڑتا ہے، وہ اس وقت انسان کی حیثیت میں نہیں لڑ رہا ہوتا۔وہ اس وقت گویا انسانی معیار سے نیچے گرا ہوا ہوتا ہے۔پس ایسی صورت میں ہر سچے مسلمان کے سامنے ایک تو یہ چیز آتی ہے کہ اسے اپنے جذبات کو خدا اور اس کی رضا کے حصول کے لئے قربان کر دینا چاہیے اور دوسرے یہ کہ اس کا اصل مقصود اس کے بھائی کی اصلاح کرنا ہے یعنی اگر کسی کو معاف کر دینے میں اس کی اصلاح ہوتی ہے تو معاف کر دو۔اگر بدلہ لینے میں اس کی اصلاح ہوتی ہے تو بدلہ لو مگر ان ہر دو پہلوؤں کے متعلق انسان کو اپنی سمجھ اور ذہنی قابلیت کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔جہاں تک سمجھ اور قابلیت کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) جو چیز انسان کی سمجھ سے بالا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف نہیں ٹھہرا یا غرض انسان اگر یہ سمجھے کہ میں بدلہ لوں تو دوسرے کی اصلاح ہوتی ہے تو پھر بھی غصہ کی حالت میں نہیں بلکہ اصلاح کی غرض سے بدلہ لینا ہے لیکن اگر وہ یہ سمجھے کہ میں معاف کر دوں تو شاید اس کی اصلاح ہو جائے گی۔اس کے اندر شرمندگی کے جذبات پیدا ہو جائیں گے کیونکہ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ندامت محسوس کرتی ہے تو پھر وہ اس کو معاف کر دے۔چنانچہ مسلمان عموماً معاف کر دیتا