خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 281 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 281

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۱ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی اور آپ پر بھی فضل فرمائے۔میں نے امرائے ضلع کو ایک آسان سکیم بنا کر دی تھی کہ ہر تحصیل اشاعت قرآن کے لئے دو ہزار روپے جمع کرے بعض تحصیلوں کے لئے تو یہ بالکل معمولی بات ہے مثلاً تحصیل لاہور میں سے ایک آدمی بھی دو ہزار روپے دے سکتا ہے۔وہ اگر ہمت کریں تو اس سے زیادہ جمع کر سکتے ہیں۔بعض تحصیلوں میں ہمارے احمدی دوست اتنے تھوڑے ہیں کہ ان تحصیلوں میں دو ہزار روپیہ اکٹھا کرنا بظاہر مشکل ہے۔تاہم یہ ایک عام پروگرام بنایا گیا ہے۔تکلیف مالا يطاق کے بغیر جو کام ہم کر سکتے ہیں وہ ہمیں کرنا چاہیے لیکن اگر ہم اوسطاً فی تحصیل دو ہزار روپیہ بطور سرمایہ اشاعت قرآن کے لئے جمع کریں تو مغربی پاکستان کی کل ۱۵۲ تحصیلیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ۳ لاکھ ۴ ہزار روپے جمع ہو سکتے ہیں۔میں نے امرائے ضلع کو کہا تھا کہ یہ اپنا سرمایہ رکھو اور اس سے حمائل سائز میں سادہ اور اردو تر جمہ والا قرآن کریم خرید کر فروخت کرو۔ہم نے یہ قرآن کریم مارکیٹ میں اتنا سستا دے دیا ہے کہ بعض لوگ مانتے نہیں۔حتی کہ بعض احمدیوں کو بھی شاید شک ہوگا کہ اپنی طرف سے ڈالا ہے حالانکہ ہم اسے اصل لاگت پر دے رہے ہیں۔اس کا اصل خرچ چھ روپے فی کاپی ہے۔گو بعض ملکوں میں اس سے بھی کم قیمت پر دے رہے ہیں اور بعض ملکوں میں اس سے زیادہ قیمت پر بھی دے رہے ہیں تا کہ اسے سمویا جائے اور ہماری اپنی اصل قیمت وصول ہو جائے۔اُمت محمدیہ میں دراصل قرآن کریم کی اشاعت دورنگ میں کی گئی ہے ایک اس کو تجارت کا مال بنا کر منڈی میں پھینکا گیا اور اس سے مادی فائدہ اُٹھایا گیا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے تاجر نہیں بنایا۔مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نائب بنایا ہے اس واسطے میں نے تجارت نہیں کرنی۔تفسیر صغیر کی طرز پر اردو ترجمہ قرآن کریم بھی چھپ چکا ہے۔بعض دوستوں نے دیکھا بھی ہوگا۔یہاں بھی کچھ کا پیاں پڑی ہوئی ہیں۔شروع میں جب دفتر والوں نے مجھے تین کا پیاں لا کر دیں کہ میں دیکھ لوں۔تو میں نے خاندان کے افراد جو مجھے ملنے کے لئے شام کو آ جاتے ہیں ان کو دکھایا تو سب نے بڑا پسند کیا۔میں نے کہا مجھے بڑا افسوس ہے کہ اس کی قیمت میں چھ روپے نہیں