خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 10

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ کے جنوری ۱۹۷۲ء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔چنانچہ قاضی محمد نذیر صاحب یا عبدالمالک خاں صاحب میرے پاس بڑے فخر سے یہ رپورٹ کر دیں گے کہ انہوں نے پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کر دیا ہے اول تو یہ ہے کہ ۱۲ کروڑ آبادی کے ملک میں پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کر دینا تو ویسے ہی بڑے شرم کی بات ہے اور دوم اس سے بھی بڑے شرم کی بات یہ ہے کہ پانچ ہزار جو شائع کیا اس میں سے پانچ صد تقسیم ہوا اور باقی چار ہزار پانچ صد اصلاح وارشاد کے گودام میں یا مبلغین کے چولہوں کے پاس پڑا ہوا ہے۔ہمارا اس طرح تو کام نہیں چلے گا۔یہ تو کوئی کام نہیں کہ ۱۲ کروڑ کی آبادی کے ملک میں پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہونے والی کتاب صرف پانچ صد کی تعداد میں تقسیم ہو۔کیا ہم اپنی عزت کے لئے زندہ ہیں؟ کیا ہم اس لئے زندہ ہیں کہ ساری دُنیا کی دولتیں ہمارے قدموں میں آکر جمع ہو جائیں۔اگر یہ نہیں اور یقیناً نہیں کیونکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری پائی پائی دُنیا کے قدموں میں جا کر پڑ جائے اور لوگوں کے فائدہ کا موجب بنے تو پھر دُنیا کی بھلائی کے لئے تم سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ تم کرو ورنہ تم اپنے رب کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کے نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔(روز نامه الفضل ربوه ۶ فروری ۱۹۷۲ء صفحه ۲ تا ۴)