خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 272

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۲ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء انسان کو کسی دوسری چیز کی ضرورت ہے۔چنانچہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے عقل خود اندھی ہے گر نیر الہام نہ ہو یہ دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہے۔قرآن کہتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ انسانی عقول ناقص ہیں اور اس کمزوری اور نقص کے نتیجہ میں آپس میں اختلاف کرتی ہیں۔جب دو ایک جیسی چیزیں اختلاف کر رہی ہوں تو ویسی ہی تیسری چیز اُن کا اختلاف دُور نہیں کر سکتی۔مثلاً اگر دو عقول کی کشتی ہو جائے یا آپس میں اختلاف کرنے لگ جائیں تو تیسری عقل آکر اُن کا اختلاف دُور کر ہی نہیں سکتی۔اس لئے لوگوں نے ایک اور اصول وضع کیا اور وہ بھی بڑا ناقص ہے اور وہ ” کمپرومائز کا اصول ہے کہا کچھ تم چھوڑ دو، کچھ میں چھوڑ دیتا ہوں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے خود تسلیم کر لیا کہ عقل ناقص ہے کیونکہ اگر کوئی چیز ناقص نہ ہوتی تو اس کے لئے کچھ چھوڑنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا تھا۔آخر اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنی کو کیوں اختیار کیا جائے۔غرض جن لوگوں نے کمپرومائز کا اصول بنایا ہے اُنہوں نے بھی اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ ہماری عقلیں ناقص ہیں۔اس لئے کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے کچھ تم قربانی کرو۔کچھ ہم قربانی دیتے ہیں۔مگر قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ جورب العلمین ہے وہ تمہیں تمہاری عقلوں پر کیسے چھوڑ سکتا تھا کہ تم ہر وقت لڑتے ہی رہو کیونکہ عقل عقل سے اختلاف کرتی ہے اس واسطے فرمایا کہ اے رسول! ہم نے تجھ پر یہ کامل کتاب اس لئے اُتاری ہے کہ لوگوں کی ناقص عقول اور ان کے فکر و تدبر کے نتیجہ میں اختلافات پیدا ہوں تو یہ اُن کو دور کر دے۔عقل عقل کے باہمی اختلاف کو اللہ تعالیٰ کا الہام دور کر سکتا ہے۔کیونکہ وہ خدائے علام الغیوب کے سرچشمہ سے نکلتا ہے۔پس عقل عقل کے اختلاف کو ( دونوں عقول ناقص ہیں تبھی اختلاف پیدا ہوا نا!) ایک تیسری ناقص عقل دُور نہیں کر سکتی۔البتہ وہ یہ کہتی ہے کہ آپس میں کا مپرومائز یعنی کچھ چھوڑ و اور کچھ لو کے اصول پر سمجھوتہ کر لیکن وہ ان کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔وہ ان کے او پر حکم نہیں بن سکتی۔وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ درست ہے اور وہ درست نہیں ہے۔اس طرح تو جس کے خلاف فیصلہ ہوگا وہ اس کے