خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 262

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۲ خطبہ جمعہ ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء پیدا ہونے کے معنوں میں تَقْشَعِر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔پس ہمارے رب کے مقابلے میں شیر کی کیا حیثیت ہے یا اگر پہاڑ کی بلند چٹانیں ہوں اور ان کے نیچے آپ کھڑے ہوں تو آپ کا دماغ چکرا جاتا ہے اس کی تھوڑی سی بلندی دیکھ کر تو اللہ تعالیٰ کی بلندی اور اس کی رفعت اور اس کی عظمت کا تو انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ تو نہ ختم ہونے والی صفات ہیں۔غرض جیسا کہ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے ہمیں اپنے اندر خشیت یعنی تذلل پیدا کرنا چاہیے۔پھر قرآن کریم کی تعلیم اثر کرے گی اور وہ کیفیت جو عظمت کے مشاہدہ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔وہ پیدا ہونے لگ جائے گی۔لیکن اگر خشیت اللہ نہ ہواگر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس ہی نہ ہو اور اس کے سامنے تذکل اختیار کرنے کا عہد نہ ہو تو پھر قرآن کریم کی تعلیم کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔پس انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کرے۔خشیت اللہ صرف کسی انتہا کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی ابتداء بھی ہے اور اس کی انتہاء بھی ہے۔نیز اس کی ابتداء اور اس کی انتہاء میں بڑے فاصلے ہیں اور بڑی دوری ہے۔انسان اسے شروع کرتا ہے اور پھر وہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔وہ آہستہ آہستہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔آخر حضرت خالد بن ولید اسلام لانے کے بعد پہلے دن تو اتنی خشیت اللہ نہیں رکھتے تھے جتنی مثلاً یرموک کے میدان میں انہوں نے دکھائی تھی۔اور اللہ تعالیٰ کے رعب کے نیچے آکر انتہائی عاجزی کی راہوں کو اختیا رکیا تھا۔وہ جرنیل تھے مگر خلیفہ وقت کا حکم آیا تو سپاہی بن گئے اور دل میں قطعاً کسی قسم کا کوئی احساس پیدا نہیں ہونے دیا۔اس واسطے کہ جہاں ان کو خلافت کے حکم نے لا کر کھڑا کیا تھا اس سے بھی نیچے انہوں نے خود اپنے آپ کو کھڑا کیا ہوا تھا اور یہی انتہائی تذلیل کا مقام ہے۔پس یہ تو ہے خشیت۔دوسرے محبت الہی ہے جو ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ سے مستنبط ہے اور یہ محبت اللہ تعالیٰ کے احسان اور دوسری جمالی صفات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔پس ان ہر دو یعنی خشیت اور محبت کی ایک ابتدا بھی اور ایک انتہا بھی ہے۔لیکن کوئی فاصلہ حرکت کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا اور کسی منزل پر آپ چلے بغیر پہنچ نہیں سکتے۔اس لئے جب آپ اس کی ابتداء کریں اور پھر ވ